اسلام آباد : امریکہ ، ایران کے درمیان مذاکرات رات گئے تک جاری رہے ان مذاکرات میں توقع سےزیادہ پیش رفت ہوئی ہے ۔
بی بی سی فارسی کے نامہ نگار کسریٰ ناجی کے خیال میں بظاہر مذاکرات میں توقعات سے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم بعض معاملات پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر۔
امریکہ اور ایران کے تکنیکی ماہرین کے درمیان مذاکرات کس سطح پر ہیں، اس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
لیکن پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کو امید ہے کہ مذاکرات کا اختتام ’اتوار کی صبح تک ہو جائے گا۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستانی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘
اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف، جارڈ کشنر سمیت دیگر امریکی حکام سنیچر کو صبح پاکستانی دارالحکومت آئے۔
دونوں وفود نے علیحدہ علیحدہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے بیانات جاری کیے گئے جن میں کہا گیا کہ پاکستان بطور ثالث اپنا کردار نبھاتا رہے گا اور اسے امید ہے کہ سنیچر کو ہونے والے مذاکرات تنازع کے حل کی طرف ایک قدم ثابت ہوں گے۔
پاکستانی حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلے پاکستان کے ذریعے ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا جس کے بعد مہمان وفود نے پاکستانی حکام کی موجودگی میں ڈھائی گھنٹے تک بات چیت کی۔
اس کے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ لیا گیا اور ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان پیش کیے گئے مطالبات پر تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق تکنیکی پہلوؤں پر پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ مذاکرات اب کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔
پاکستانی حکام نے سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’امید ہے اتوار کی علی الصبح تک یہ مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔‘
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کے دوران بھی اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ’سہ فریقی مذاکرات‘ کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔
امریکہ اور ایران کے تکنیکی ماہرین کے درمیان مذاکرات کس سطح پر ہیں، اس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایرانی، امریکی یا پاکستانی حکام نے تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔
( بشکریہ :بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

