آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘
Browsing: امریکا
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔
مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔
انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔
یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)
اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔
جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
