مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔
Browsing: امریکا
انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔
یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)
اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔
جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔
دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔
ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر ‘‘ہم توڈوبے ہیں…’’ والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے ۔
پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔
حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کرا سکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔
