صنعا : ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں حوثیوں کی مداخلت سے بحیرہ احمر کے قریب تنازع کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
حوثیوں نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی کے دوران بھی اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرونز، میزائلوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔ اس کی وجہ سے کمپنیوں نے یہ روٹ اختیار کرنے کے بجائے افریقہ کا طویل روٹ اپنانے کو ترجیح دی تھی۔
حوثیوں نے جنوری 2024 میں برطانوی اور امریکی جنگی جہازوں پر بھی حملے کیے تھے۔
برطانیہ اور امریکہ نے جواب میں یمن میں حوثی اہداف کے خلاف متعدد حملے کیے اور حوثی باغیوں کے حملوں سے جہاز رانی کی حفاظت کے لیے رائل نیوی کا ایک ڈسٹرائر تعینات کیا۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ میں حوثیوں کی مداخلت آبنائے ہرمز، جہاں متعدد ٹینکروں پر حملہ کیا گیا ہے، ایران کی جانب سے مؤثر طریقے سے بند کیے جانے کے بعد جہاز رانی کے لیے مزید خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔
حوثی باغیوں نے 2014 سے شمال مغربی یمن کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول کر رکھا ہے، جب اُنھوں نے دارالحکومت صنعا سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کیا اوراس کے بعد خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔
حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کی تصدیق کر دی
یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔
گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے ’حساس اسرائیلی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے‘ کے لیے بیلسٹک میزائل داغے ہیں اور یہ اقدام ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں ہدف بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا۔‘
گروپ نے مزید کہا کہ اس کے آپریشنز تب تک جاری رہیں گے جب تک تمام محاذوں پر ’جارحیت‘ ختم نہیں ہو جاتی۔
ادھر چتھم ہاؤس کے ریسرچ فیلو فاریہ المسلمی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی تنازع میں شمولیت ’بڑی اہمیت‘ کی حامل ہے کیونکہ وہ ایک اور اہم بین الاقوامی تجارتی بحیرہ احمر پر بیٹھے ہیں۔
بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ حوثیوں نے ابھی تک یہ نہیں کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر پر حملہ کریں گے۔ ان کے خیال میں، وہ ’خود کو ایک اور امریکی حملے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ 2025 میں بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ مل کر بمباری کی تھی۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )

