تہران : ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شامل نکات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو 30 دن کے اندر ختم کرنا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد سے نو جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے جبکہ 135 کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اب یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔
پاکستان کے مطابق اس امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

