پاکستان اس وقت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں تجربات کی ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں مستقل پالیسی، فکری تسلسل اور ادارہ جاتی روایت کو بار بار قربان کیا جا رہا ہے۔ ان مسلسل تجربات نے ریاست کے بہت سے اداروں کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جن اداروں کو قومی اقدار، علمی روایات اور عوامی مفادات کی حفاظت کرنی تھی، وہ بھی مختلف مفادات اور دباؤ کے حصار میں دکھائی دیتے ہیں۔
صحافت، جو کبھی حق گوئی، اور عوامی مسائل کی آواز سمجھی جاتی تھی، اب بڑی حد تک طاقت اور مراعات کے مراکز کے قریب آتی جا رہی ہے۔ ادب، بیوروکریسی اور دیگر سماجی طبقات میں بھی اشرافیانہ رویے بڑھتے نظر آتے ہیں، جبکہ مزدور، کسان، استاد، ڈاکٹر اور فنکار جیسے معاشرے کے حقیقی معمار معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔
تعلیم، صحت، انصاف اور امنِ عامہ کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ان شعبوں میں مستقل اور سنجیدہ منصوبہ بندی کے بجائے آئے روز نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں کبھی نئی روشنی، کبھی تعلیمِ بالغاں، کبھی دانش سکول، کبھی مختلف میڈیمز، کبھی امتحانی نظام کی تبدیلی، کبھی نصاب میں غیر متوازن تبدیلیاں اور کبھی دیگر منصوبے متعارف کروائے جاتے رہے ہیں۔ ہر نئی حکومت یا انتظامیہ ایک نیا تجربہ لے کر آتی ہے، جبکہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اپنی تعلیمی روایات کو بنیاد بنا کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔
آج سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی ایک نئے سوال کو جنم دے رہی ہے۔ اگر تعلیم کو صرف معاشی منافع اور انتظامی سہولت کے پیمانے پر ناپا جائے گا تو اس کے نتیجے میں تعلیم کا وہ سماجی، تہذیبی اور قومی کردار کمزور پڑ جائے گا جو صدیوں کی علمی روایت سے تشکیل پاتا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس عمل سے تجربہ کار اساتذہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں گے اور تعلیمی ادارے ایسے عناصر کے سپرد ہو جائیں گے جن کی بنیادی ترجیح تعلیم نہیں بلکہ کاروباری مفاد ہو سکتا ہے۔
یہ محض سکولوں کی عمارتوں یا انتظامی ڈھانچے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری تعلیمی تہذیب کا مسئلہ ہے۔ یہی تعلیمی روایت تھی جس نے ہمیں علامہ اقبال، ڈاکٹر عبدالسلام، فیض احمد فیض، پطرس بخاری، احمد ندیم قاسمی جیسے عظیم دانشور، شاعر، سائنس دان اور اہلِ قلم دیے۔ اگر ہم نے اس روایت کے اداروں کو محض ایک انتظامی بوجھ سمجھ کر دوسروں کے سپرد کر دیا تو آنے والی نسلوں کے فکری سرمائے کو خطرے میں ڈال دیں گے۔
تعلیم کے بارے میں فیصلے محض انتظامی افسروں یا مالیاتی ماہرین کا اختیار نہیں ہونے چاہییں۔ مقابلے کے امتحانات پاس کرکے آنے والے قابل افسر اپنی جگہ اہم ہیں، مگر تعلیم ایک مخصوص علمی اور تہذیبی میدان ہے جس کے بارے میں ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، دانشوروں اور اہلِ فکر کی رائے کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں تعلیم کو ایک خرچ نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے، اساتذہ کی تربیت اور عزتِ نفس کو یقینی بنایا جائے، نصاب اور تدریس کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور تعلیمی پالیسی کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر رکھا جائے۔
یاد رکھیے، اگر ہم نے اپنی درسگاہوں کو آؤٹ سورس کر دیا تو صرف عمارتیں اور انتظام نہیں بدلیں گے، بلکہ خدشہ ہے کہ ہماری صدیوں کو محیط تعلیمی روایت، ہماری علمی شناخت اور ہمارا فکری ورثہ بھی آؤٹ سورس ہو جائے گا۔
فیس بک کمینٹ

