چکوال : ایک مقامی عدالت نے فائرنگ کے نتیجے ہلاک ہونے والی نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلین لڑکی ہانیہ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
چکوال میں پیش آئے اس واقعے میں بچی کے والد اور بھائی بھی سی سی ڈی اہلکار کی جانب سے کی گئی مبینہ فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے تھے۔
چکوال پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سی سی ڈی کے ملزم کانسٹیبل نے 10 اور 11 جون کی درمیانی شب ایک مبینہ ڈکیتی کو ناکام بنانے کی کوشش کے دوران فائرنگ کی، تاہم ’شناخت کی غلطی‘ کے باعث پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان، جنھیں ڈاکو لوٹ رہے تھے، اس فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا ہے کہ یہ سی سی ڈی افسر کی غلطی تھی تاہم محکمہ اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہے گا۔
اتوار کے روز فائرنگ کرنے والے ملزم اہکار کو چکوال کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سے سرکاری گن برآمد کر لی گئی جبکہ اس کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جس روز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اُس روز سی سی ڈی اہلکار کی تھانے میں حاضری کو بھی چیک کیا گیا۔
عدالت کو مزید آگاہ کیا گیا کہ وہ گاڑی جس پر سرکاری بندوق سے فائرنگ کی گئی اور جائے حادثہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کو ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چونکہ ملزم کا بیان ہو چکا اور اُن سے سرکاری گن بھی قبضے میں لے لی گئی ہے اس لیے تفتیشی ٹیم کو ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جس پر عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
دوسری طرف چکوال پولیس کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان سے ڈکیتی میں ملوث دونوں ڈاکو ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچی کے والد عدیل احمد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا۔
متعلقہ حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اگلے دو روز میں اس واقعے سے متعلق حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو پیش کرے گی۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے اتوار کو چکوال میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور واقعے کو سی سی ڈی افسر کی غلطی قرار دیا۔
متاثرہ خاندان سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ڈکیتی کے وقت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکو کار کے پیچھے چھپ کر پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے، اس دوران وہ ایک گلی میں فرار ہو گئے جس کا سی سی ڈی افسر کو پتہ نہیں چلا اور وہ غلط اندازے سے گاڑی پر بے تحاشہ فائرنگ کرتا رہا جس سے ایک معصوم ننھی بچی کی جان چلی گئی جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔
سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد مذکورہ سی سی ڈی افسر کو معطل کر کے حراست میں لیا گیا جبکہ مقدمے کے اندراج کے بعد انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان سے ملنے کا مقصد یہ تھا کہ سی سی ڈی اس معاملے میں نیوٹرل، ریفری کے طور پر کام کرے گا اور اس واقعے کی تحقیقات کے دوران اپنے افسر کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کے دوران سی سی ڈی نے بہترین کام کیا، لہذا ایک شخص کی بھیانک غلطی کو پورے محکمے کی غلطی قرار دینا ناانصافی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

