بخدمت جناب ڈونلڈٹرمپ صاحب بہادر
صدر متحدہ ریاست ہائے امریکہ
سربراہ عرب امریکہ سربراہی کانفرنس و
سرپرست اعلیٰ دنیائے عرب
جناب عالی گزارش ہے کہ فدوی سب سے پہلے تو اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی اورکم علمی کی بنا پر عالی مرتبت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کاشکاررہاجس پر وہ ندامت کااظہار ضروری سمجھتا ہے اور اس فروگذاشت پر آپ سے دست بستہ معافی کاخواستگارہے۔
جناب عالی افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے آپ کے بدخواہوں نے آپ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیداکررکھی تھیں۔جب سے آپ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں امیدواربنے تھے ہنود و یہود کے ایجنٹوں کی طرف سے آپ کی کردارکشی کی مہم شروع کردی گئی تھی۔آپ کے بارے میں طے شدہ منصوبے کے تحت یہ تاثر پیدا کیا گیاکہ آپ خدانخواستہ اسلام دشمن ہیں اورمسلمانوں کو نیست ونابودکرناچاہتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران آپ کے اس قسم کے کچھ بیانات بھی سامنے آئے جن سے یہ بد گمانی پیدا ہوتی تھی کہ آپ مسلمانوں کے سخت مخالف ہیں، لیکن اب اندازہ ہوا کہ ہم اپنی کوتاہ نظری کے باعث آپ کے ان بیانات کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصررہے۔ اب سمجھ آتا ہے کہ درحقیقت وہ سب انتخابی پروپیگنڈہ تھا۔ الحمداللہ امریکہ کے باشعوراور پڑھے لکھے لوگوں نے اس پروپیگنڈہ پرکوئی توجہ نہ دی، اللہ کی مدد شاملِ حال ہوئی اورفتح وکامرانی نے آپ کے قدم چومے۔
مدعی لاکھ برا چاہے توکیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
عالی مرتبت مسئلہ یہ ہے کہ عالمی امن کے دشمن اپنی حزیمت کے بعد بھی خاموش نہ ہوئے اور آپ کی کامیابی کے بعد آپ کی کردارکشی شروع کردی گئی۔آپ کی اورمحترمہ میلانیا کی ایسی ہوش ربا تصاویر اورجعلی ویڈیوز سوشل میڈیاپرپھیلائی گئیں کہ جنہیں دیکھ کر سرتوشرم سے جھک جاتاتھالیکن دل یہ کہتاتھاکہ یقینا ان تصاویر اورویڈیوز کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور پھر وقت نے ثابت کیاکہ دشمنوں نے جوبھی پروپیگنڈہ کیاتھاوہ لغوتھا۔آپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد چندشرپسنداسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پرجب پابندیاں لگائیں توایک مرتبہ پھرطوفان کھڑاہوگیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی سادہ لوحی اور انگریزی زبان سے نا آشنائی کی وجہ سے ان بہت سی باتوں اورالزام تراشیوں کوسچ سمجھتے رہے۔اب صدر منتخب ہونے کے بعد جب آپ نے اپنے پہلے دورے کے لئے حجازمقدس کاانتخاب کیاتوگویاسب الزام باطل ثابت ہوگئے۔وہ جو آپ کو اسلام دشمن کہتے تھے ان کی زبانیں بھی گنگ ہوگئیں اورپھران بدخواہوں نے اپنی توپوں کارخ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان،دیگرعرب ممالک اور شاہزادوں کی طرف کردیا۔آپ کے دورے کاآغازہوا اور آپ خاتون اول کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے۔ ریاض ایئر پورٹ پرشاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنی کابینہ کے ہمراہ آپ کے استقبال کے لئے بہ نفس نفیس موجودتھے۔فلک نے بھلا یہ نظارہ اس سے پہلے کب دیکھا تھا۔جلالہ ۃالملک نے پہلے تو آپ کے ساتھ معانقہ کیاپھر عرب روایات کے مطابق آپ کی گالوں کابوسہ لیااورخاتون اول ریاست ہائے متحدہ امریکہ یعنی آپ کی زوجہ محترمہ کے ساتھ صرف مصافحہ فرمایا۔اب اسلام دشمنوں کی جانب سے نیاپروپیگنڈہ شروع ہوگیااور بات کابتنگڑیہ بنایاگیاکہ محترمہ میلانیا بھلا سکارف یادوپٹے کے بغیر کھلے بالوں کے ساتھ حجاز مقدس کیوں تشریف لائی ہیں۔کوئی انہیں بتائے کہ اگرمحترمہ میلانیا اورآپ کی عفت مآب صاحبزادیاں سکارف اوردوپٹے کے بغیر سعودی عرب آ ہی گئی تھیں تواس میں بھلا قباحت ہی کیاتھی۔افسوس کہ یہ سب لوگ اس بات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ تمام محترم خواتین اس شدید گرمی کے موسم میں بھی پورا لباس زیب تن کر کے آئیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ سکارف اوردوپٹے کی پابندی توصرف مسلمانوں کے لئے ہے اورہونی بھی چاہئے۔ ویسے بھی عرب حکمران بہت مہمان نواز ہیں۔وہ بھلا مہمانوں پراپنے عقائد کیسے مسلط کرسکتے تھے اورپھروہ تو ایک ایسے رہنما اوراس کے اہل خانہ کااستقبال کررہے تھے جومسلمانوں کی فکر کرتا ہے اور ان کی سربلندی کے لئے کام کر رہا ہے۔اورجناب صدرِ ذی وقار ہم تو یہ بھی فراموش کر گئے کہ آپ نے سعودی عرب کو اسرائیل پربھی ترجیح دی تھی یعنی آپ نے سعودی عرب کادورہ پہلے کیااوربعدمیں اسرائیل کی دیوار گریہ پرحاضری دی۔
جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔
جناب عالی دہشت گردی کوجڑسے اکھاڑنے کے لئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم نے اپنے سپہ سالاربطل حریت راحیل شریف کو پہلے ہی اس اسلامی فوج کی قیادت کے لئے سعودی عرب بھیج دیاہے جس نے ایران،شام،یمن اوردیگرممالک میں دہشت گردوں کاصفایا کرناہے اورجناب راحیل شریف صاحب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کاتوزمانہ معترف ہے انہوں نے ضرب عضب میں اتنی کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کو نیست ونابودکیاکہ اس کے بعد کسی اورآپریشن کی ضرورت ہی نہیں تھی۔آپریشن ردالفسادتوہم نے صرف آپ کی اورسعودی عرب کی خوشنودی کے لئے شروع کیاہے ورنہ اس کی کوئی خاص ضرورت تو اب نہیں تھی۔
جناب والا اس درخواست کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں آپ کی تقریر اورآپ کی شخصیت سے متاثرہونے کے بعد اس اسلامی فوج کاحصہ بننا چاہتا ہوں جس نے اسلام کی سربلندی کے لیے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں کام کرنا ہے۔جنرل صاحب کوتو آپ کی جانب سے خطیر رقم بھی فراہم کی جارہی ہے اوریہ یقیناً وہ اس کے حق داربھی ہیں لیکن میں اپنی خدمات آپ کو مفت پیش کرتا ہوں۔ہاں اگرآپ نے اس کے عوض مجھے کچھ نذرانہ پیش کرنے کی کوشش کی تو صرف آپ کی خوشی کے لیے اسے قبول کرلوں گا۔امید ہے کہ آپ حقیر کی اس عاجزانہ سی درخواست پر ضرورغور فرمائیں گے۔میں نسل درنسل پہلے بھی آپ کا غلام تھا۔آئندہ بھی غلام ہی رہوں گا۔
( مطبوعہ روزنامہ خبریں ۔۔ 26 مئی 2017)
فیس بک کمینٹ

