یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔
Browsing: رضی الدین رضی
یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔
پگ میرے ویر دی ہمراہ 19 نومبر کو گرما گرم سائیڈ پروگرام انتخابی نشان پگڑی سنبھال جٹا ، تمنا کیسی کیوں نہ ہو ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اے کہوٹہ بیوٹی پارلر ہم تیری طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو توڑ دیں گے تم نے ڈھاکہ دیا ہم نے لکس انٹرنیشنل سوپ لیا ۔ بالوں اور سیاسی نظام کی خوبصورت آ رائش کے لیے مسلم لیگ ہیئر کٹنگ سیلون آ پ کا مخلص چراغ دین انتخابی نشان ٹیبل ۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔
دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔
امی کے جانے کے بعد یہ خاندان مکمل ہو گیا ۔۔ سب نے آج خوب دل کی باتیں کی ہوں گی ۔۔ نانی اماں نے گلے سے لگایا ہو گا ۔۔ دادی ہاتھ پکڑ کر ابو کے پاس لے گئی ہوں گی کہ تم اتنے برسوں سے اس کی راہ تک رہے تھے لو آ گئی ہے اب پوچھ لو کیوں دیر سے آئی اور امی نے کہا ہو گا ’’ تہاڈیاں امانتاں دی حفاظت نئیں کرنی سی ۔۔ ؟ سب نوں بنے لا کے آئی آں ‘‘ ( آپ کی امانتوں کی حفاظت نہیں کرنا تھی ؟ ۔۔ سب کو کنارے لگا کر آئی ہوں )
جب نیندیں اچھی لگتی تھیں : رضی الدین رضی کی محبت بھری نظم وہ بھی دن تھے جب آنکھوں میں ہر منظر اجلا اجلا تھا اک…
وہ خالد تھا بہت ہی سعد لمحوں میں جو اس دنیا میں آیا تھا وہ جب رہداریوں میں چلتاتھا تو دیواریں سنبھل کر اس کو تکتی…
امی جان رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے۔ اور مجھے آپ کو سلام کرنا ہے۔ آپ کو یاد ہے نا کہ جب چاند نظر…
