فون کی گھنٹی بجتی اور واسطی صاحب کی آواز سنائی دیتی ’’کیاکر رہے ہو؟ بس آ جاؤ ’’۔ اور ہم ان کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔…
Browsing: رضی الدین رضی
ریڈیو پاکستان ملتان کا قیام تو 1970ء میں عمل میں آیا لیکن ریڈیو ہمارے گھر ایک سال پہلے ہی آگیا تھا۔1969ء میں میرے داداحج کے لیے…
سال 2009 میں ہماری ایک کتاب ’’ اردو زبان و ادب بدلتے رجحانات ‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آئی تھی ۔۔ اب تو خیر…
بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں کہ جن پر کم از کم پاکستان میں تو وقت کی گرد نہیں پڑتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس تحریر کا…
موت ایک اٹل حقیقت سہی لیکن یہ بھی تو ایک کڑوا سچ ہےکہ ہم نے زندگی کے خوبصورت لمحات جن کے ساتھ گزارے ہوتے ہیں،کبھی گمان…
ہم سب کے استاد ، ملتان میں روشن خیالی ، ترقی پسندی اور انسان دوستی کی عملی تصویر پروفیسر خالد سعید نے ملتان لٹریری فیسٹیول کا…
گلڈ ہوٹل ایک زمانے میں ملتان کا بڑا ادبی مرکز ہوتا تھا ۔ ہم نے اس ہوٹل کی گہما گہمی کا وہ زمانہ تو نہیں دیکھا…
یہ موت پہلے بھی سیاہ چادر لئے عموماً ہماری گلیوں میں گھومتی تھی کبھی کسی پر جو پیار آتا تو اُس کے ماتھے کو چومتی تھی…
یہ گیارہ برس قبل پندرہ ستمبر 2014 کا واقعہ ہے۔ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف ان دنوں وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھے…
گزشتہ ہفتے روزنامہ جنگ نے اداریہ ختم کیا تو ہم نے اُس پر ایک مختصر تحریر فیس بک کی دیوارِ گریہ پر آویزاں کردی۔ اس تحریر…
