بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں کہ جن پر کم از کم پاکستان میں تو وقت کی گرد نہیں پڑتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس تحریر کا ہے۔ ہم نے یہ انشائیہ چالیس برس پہلے تحریر کیا تھا اور یہ 8 دسمبر 1985 ء میں روزنامہ امروز کے جمعہ میگزین میں اور مئی میں ؔ اوراق میں شائع ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آئین میں آٹھویں ترمیم پر بحث جاری تھی۔ روزانہ یہی موضوع زیرِ بحث رہتا تھا۔ آج کے نوجوانوں کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ پاکستان کے آئین میں آٹھویں ترمیم 11 نومبر 1985 کو نافذ کی گئی۔ یہ ترمیم 16 اکتوبر 1985 کو منظور ہوئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد جنرل ضیاء الحق کی جانب سے کی گئی آئینی ترامیم کو قانونی جواز فراہم کرنا تھا۔
اس ترمیم نے حکومت کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی، یعنی پارلیمانی نظام کو نیم صدارتی نظام میں بدل دیا۔ اس کے تحت صدرِ مملکت کو نئی طاقتیں دی گئیں، جن میں سب سے اہم قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار شامل تھا۔ آئین کے آرٹیکل Article 58 ( 2 ) (b) کے تحت صدر کو جو اختیارات دیے گئے وہ تین اسمبلیوں کی تحلیل کا باؑعث بنے اسی ترمیم کے نتیجے میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور جنرل ضیاء نے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ آج جب کہ آئین میں ستائیسویں ترمیم کی جا رہی ہے۔ ہم اپنی یہ تحریر قندِ مکرر کے طور پر آپ کی نذر کر رہے ہیں
*** ***
اگر کسی عام آدمی سے ترمیم کا مفہوم پوچھ لیا جائے تو وہ اس کے بارے میں صرف اتنا ہی کہہ سکے گا کہ کسی چیز میں مناسب تبدیلی کرنا ترمیم کہلاتا ہے۔ اگر ڈکشنری سے مدد لی جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ ترمیم عربی زبان کا لفظ ہے۔ مؤنث ہے اور اس کے لفظی معنی اصلاح، درستی، مرمت اور سنوارنے کے ہیں۔ لغوی معنوں کو مد نظر رکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موچی جوتیوں کی مرمت کرنے کی بجائے ان میں ترمیم کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کی اصلاح نہیں کرتے بلکہ ان میں ترمیم کرتے ہیں اور حجام بھی بال سنوارنے کی بجائے بالوں میں ترامیم کرتا ہے۔ اسی لئے ہمیں چاہیے کہ ڈکشنری کھولنے کی زحمت ہی نہ کریں کہ اس سے کئی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اول تو ڈکشنری اٹھانا ہی بہت حوصلے کا کام ہے اور پھر اس سے بڑا کام ڈکشنری سے لفظ ڈھونڈنے کا ہے۔ کئی الفاظ تو ایسے ہیں جو ڈکشنری میں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اسی لیے اگر ہم ترمیم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ڈکشنری کا سہارا لیں گے تو اپنا بھی وقت ضائع کریں گے اور آپ کا بھی لیکن آپ کا وقت تو خیر اس وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔
ہمارے نزدیک نظریہ ضرورت کے تحت کسی بھی چیز میں اس طرح سے رد و بدل کرنا کہ اس کی ہیئت ہی تبدیل ہو جائے ترمیم کہلاتی ہے۔ آپ کو ترمیم کی یہ تعریف معاشیات اور سائنس کی کئی تعریفوں اور اصولوں کا چربہ معلوم ہوگی لیکن سچ تو یہ ہے کہ ترمیم کی اصل تعریف یہی ہے۔ ترمیم کی تعریف کو چھوڑیں تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا اور پھر اس میں رفتہ رفتہ ترمیم کرتا چلا گیا۔
ترمیم کا انسان کی تہذیب، ثقافت اور مذہب سبھی سے نہ صرف یہ کہ بہت گہرا رشتہ ہے بلکہ یہ رشتہ خاصا پرانا بھی ہے۔ ترمیم کا تہذیبی رابطہ بھی بہت پرانا ہے خود حضرت انسان کی شکل و صورت میں اگر بتدریج ترمیم نہ ہوتی تو ہم اور آپ سبھی بندر ہوتے۔ یہ علیحدہ بات کہ بندروں کی بہت سی خصوصیات اب بھی ہم میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں لیکن کیا یہ کم ہے کہ اب ہم بندر نہیں رہے، انہی تہذیبی ترامیم کو ہم نے ارتقاء کا نام دے ڈالا تو یہ ہماری اپنی کم عقلی ہے۔ یہ سورج، چاند، ستارے، زمین، آسمان غرض یہ کہ سبھی عناصر کو ترمیمی عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاند ہی کو لیجیے اس میں روزانہ تھوڑی بہت ترمیم ہوتی ہے۔ کبھی ترمیم مثبت انداز میں ہوتی ہے اور کبھی منفی صورت میں۔ سورج میں ترمیم ہوئی تو اس کے بہت سے حصے اس سے الگ ہو کر اسی کے گرد گھومنے لگے۔ سورج سے الگ ہونے والے ایک حصے میں مزید ترمیم ہوئی تو اس نے ٹھنڈا ہونا شروع کر دیا۔ اربوں کھربوں سال گزر گئے ترامیم جاری ہیں۔ سورج کے گرد گھومنے والے سورج ہی کے اس حصے پر درخت اُگے۔ پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیوں نے سر اُٹھائے، دریاؤں نے راستے بنائے، آبشاریں بنیں، پھول کھلے اور وہاں حضرت آدم نے قدم رکھا۔ اس سارے عمل سے ایک بات سامنے آئی اور وہ یہ کہ تغیر کو ثبات ہے۔
اس زمانے میں ایک مصور اپنی بنائی ہوئی تصویر کو نکھارنے کے لئے اس میں مناسب ترامیم کرتا ہے۔ ان ترامیم کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس تصویر کو اپنے ذہن میں موجود ”اصل“ کے مطابق بنانا چاہتا ہے اور جب نقل بمطابق اصل ہو جاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں ہوبہو ”مشابہت تخلیق ہو جاتی ہے تو ترمیم کا عمل ازخود رک جاتا ہے۔ اس حوالے سے اگر کائنات میں ہونے والی ترامیم کے عمل کو دیکھا جائے تو محسوس ہو گا کہ خالق کائنات اس کائنات میں ترمیم کر رہا ہے تاکہ یہ کائنات اس خیال کے مطابق ہو جائے جو خالق کے ذہن میں پہلے سے تخلیق شدہ ہے اور جب“ مشابہت ”مکمل ہو گی تو ترمیم کا عمل خود بخود رک جائے گا۔ افلاطون نے کہا تھا کہ یہ سب کچھ اصل کی نقل ہے لیکن یہاں افلاطون کی بات بھی غلط نظر آتی ہے کیونکہ اگر نقل بمطابق اصل ہوتی تو پھر تبدیلی کے عمل کو کبھی بھی پسند نہ کرتی۔ ہم اپنی ہی مثال لیتے ہیں بچپن سے بڑھاپے تک ہم میں کتنی ہی ترامیم ہوتی ہیں اور انہی ترامیم کے سہارے ہماری شکل و صورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے جس تیزی کے ساتھ ترامیم ہوتی ہیں اسی تیزی کے ساتھ انسان قبر کا رخ کرتا اور جب حضرت انسان زیر زمین سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں تو ترمیمی آرڈی ننس وہاں بھی آن گھیرتا ہے۔ کیڑے مکوڑے آ کر تازہ اور لذیذ گوشت کی دعوت اُڑاتے ہیں اور ہڈیاں مٹی میں رچ بس جاتی ہیں۔
کچھ مذاہب میں تو حضرت انسان کو خاک میں ملانے کا رواج بھی نہیں ہے، وہاں تو موصوف کو آگ دکھا کر ایسے روسٹ کیا جاتا ہے کہ مزید کسی ترمیم کی گنجائش نہیں رہتی۔ ہمارے ایک دوست کو اپنے لباس اور شکل و صورت میں وقتاً فوقتاً ترمیم کرنے کی خاصی عادت ہے، کبھی مونچھیں رکھ لیتے ہیں اور بعد ازاں مونچھوں میں معمولی سی ترمیم کرلیتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑے تو ڈاڑھی میں بھی غیر شرعی ترامیم کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لباس کو گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اور یہ سبھی کچھ ان کے نزدیک فیشن کہلاتا ہے۔ یہ تو خیر ظاہری ترامیم ہیں لیکن ہمارے ایک دوست دل کے بھی ترمیمی ہیں۔ بظاہر سب کے ساتھی لیکن اندر سے کچھ خبر نہیں کب ساتھ چھوڑ دیں۔ آج ان کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں تو کل کلاں کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔ ادبی ترامیم سے تو آپ واقف ہوں گے، کچھ ترامیم تو لکھاری وقتاً فوقتاً اپنی تحریروں میں از خود کرتا ہے لیکن کچھ ترامیم بعد ازاں اوروں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ اگر مرحلہ اشاعت کا ہو تو ایڈیٹر مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونے کے لئے اس کے مضمون میں مناسب یا غیر مناسب ترامیم کر دیتا ہے اور بعد ازاں یہ بھی لکھ ڈالتا ہے کہ ایڈیٹر کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ترمیم و اضافے کے ساتھ ادبی کتابوں کے شائع ہونے والے ایڈیشن بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ مصنفین بعض اوقات کتابوں میں اس قدر تبدیلیاں کر دیتے ہیں کہ پہلے اور دوسرے ایڈیشن میں زمین و آسمان کا فرق ہو جاتا ہے۔ ایک ترمیم تو ہم بھول ہی گئے۔ تنقیدی اجلاسوں میں نظموں اور غزلوں میں ناقدین کے ہاتھوں ہونے والی ترامیم سے کون واقف نہیں۔ نقاد حضرات نہ صرف یہ کہ مضامین میں مناسب ترامیم کا مشورہ دیتے ہیں بلکہ غزل کے معاملے میں اشعار کی ایسی ایسی توجیہات بھی پیش کرتے ہیں جو کبھی شاعر کے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔
بعض لوگ تغیر اور ترمیم میں کوئی مناسب فرق محسوس نہیں کرتے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تغیر اور ترمیم میں بنیادی فرق ہے۔ تغیر اس اسپ تازی کی طرح ہے جس پر بیٹھنے والے سوار کا نہ تو ہاتھ باگ پر ہوتا ہے اور نہ پا رکاب میں۔ دوسری طرف وہ گھڑ سوار ہے جو باگ کو کھینچ کر رکاب سے گھوڑے کو ٹہوکا لگا کر اس کی رفتار اور سمت میں ہمہ وقت ترمیم کرتا رہتا ہے۔ وہ لوگ جو خود کو گھوڑے کے سپرد کر دیتے ہیں متغیر تو ہوتے چلے جاتے ہیں مگر ترمیم کے عمل سے بہرحال محروم رہتے ہیں مگر جو لوگ گھوڑے پر غالب آ جاتے ہیں ان کی بات ہی نرالی ہے اور وہ بالآخر ایک نہ ایک روز اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔

