گزشتہ ہفتے روزنامہ جنگ نے اداریہ ختم کیا تو ہم نے اُس پر ایک مختصر تحریر فیس بک کی دیوارِ گریہ پر آویزاں کردی۔ اس تحریر میں ہم نے اداریے کی روایت ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جب اداروں میں مدیر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی اور مدیر کا منصب ایسے لوگوں کو سونپا جا چکا ہے جو مالکان کے مالی مفادات کا خیال رکھتے ہیں اور صنعت کاروں اور اہم سیاست دانوں کے ساتھ اُن کے روابط مستحکم کرنے کے لیے سہولت کار کے فرائض انجام دیتے ہیں تو ایسے میں اداریہ ختم ہونے پر بھی ہمیں تعجب نہیں ہوا کہ اخبار جو کبھی عوام کے شعور اور علم میں اضافے اور اُن کے مسائل کے حل کے لیے شائع کیے جاتے تھے اب صرف اخبار کے مالک کے مفادات کی تکمیل اور ان کا کاروبار پروان چڑھانے کے لیے شائع کیے جاتے ہیں۔ وہ زمانہ لد گیا جب صحافت ایک مشن ہوتی تھی اور صحافی کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اب صحافت برائے خدمت کی بجائے صحافت برائے جاہ و حشمت کا زمانہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں اطلاعات کے شعبے میں اور بہت سی تبدیلیاں آئیں، وہاں ہم پہلے اخباری صحافت سے الیکٹرانک، پھر ڈیجیٹل اور اس کے بعد عوامی صحافت کی جانب چلے گئے۔

ڈیکلریشن آسان ہوا تو اخبارات کھمبیوں کی طرح اُگے اور کیمرہ عام ہوا تو گویا ہر شخص صحافی بن گیا۔ صحافت کے نام پر لوگوں کی نجی زندگیوں میں مداخلت کی گئی، چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل پائیں اور نام نہاد صحافیوں نے پولیس والوں کی طرح لوگوں کے منہ سونگھنے اور نکاح نامے طلب کرنا شروع کر دیے۔ ہم روایات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم نے چونکہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ دیکھ رکھا ہے اس لیے اداریے کی بندش پر ہمیں حیرت نہ ہونے کے باوجود افسوس ضرور ہوا۔ ہم نے جب 1978 میں قرطاس و قلم سے وابستگی اختیار کی وہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ تھا اخبارات لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے تھے اور عوام کی زندگیوں میں مشکلات نہیں، آسانیاں پیدا کرتے تھے۔ وہ مراسلات جن پر ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق نہ ہونے کا مضحکہ خیز جملہ درج ہوتا ہے ہم نے تو ان مراسلات کی طاقت بھی دیکھی ہے۔ رہا یہ سوال کہ اداریہ کتنے لوگ پڑھتے تھے اور کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اب اداریہ نویسی نو آموز ٹرینی سب ایڈیٹروں کے سپرد کر دی گئی ہے، ورنہ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، شورش کاشمیری، مولانا غلام رسول مہر، فیض احمد فیض، سبط حسن، حمید نظامی، مجید نظامی اور عارف نظامی کے اداریوں کی طاقت کون نہیں جانتا؟ یہ وہ لوگ تھے جو عوام کی نبض کو سمجھتے تھے اور اُن کے جذبوں کو قلم کے ذریعے زبان دیتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حرمت قلم کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جیلیں کاٹیں، ڈیکلریشن منسوخ کرائے لیکن پھر بھی اظہار کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالتے رہے اپنے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ ان میں سے بعض کے نظریات سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن آزادی صحافت کے لیے ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی نے ضمیر نیازی صاحب کی کتاب ”صحافت پابند سلاسل“ کا مطالعہ کیا ہو تو اسے معلوم ہو گا کہ ماضی میں صحافت کن مسائل سے دوچار رہی۔ اُس کے بعد کے زمانے میں آتے ہیں تو ہمیں احفاظ الرحمٰن، ناصر زیدی، اقبال جعفری، مسعود اللہ خان اور خاور نعیم ہاشمی کی ضیا آمریت کے خلاف مزاحمت دکھائی دیتی ہے جنہیں صرف گرفتار ہی نہیں کیا گیا کوڑے بھی لگائے گئے۔ اور تو اور نیشنل پریس ٹرسٹ کے سرکاری اخبارات امروز اور پاکستان ٹائمز نے بھی مزاحمتی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے اظہر جاوید، مسعود اشعر، شفقت تنویر مرزا، ولی محمد واجد سمیت بہت سے صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امروز اور پاکستان ٹائمز سے وابستہ ادیبوں نے بحالی جمہوریت کی قرارداد پر دستخط کیے تو انہیں ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔
ہم نے ان دنوں کارزار صحافت میں ابھی قدم ہی رکھا تھا۔ ان ادیبوں اور شاعروں کی برطرفی کے خلاف روزنامہ سنگ میل ملتان میں 5 / اکتوبر 1983 ء میں ہمارا کالم ”بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی“ شائع ہوا تھا۔ شاید اس سناٹے میں یہ واحد کالم تھا جس میں ان برطرفیوں پر احتجاج کیا گیا تھا۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں اداریے کی روایت ختم ہو چکی ہے اس لیے پاکستان میں بھی اسی معیار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ جنگ انتظامیہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہم اپنی پالیسی اپنی خبروں کی اشاعت اور ترتیب میں نمایاں کر دیتے ہیں۔ اور یہ خبریں ہی عوام کے جذبات کی آئینہ دار ہوتی ہیں، ہم اسی کے ذریعے رجحان سازی کرتے ہیں اور یہی خبریں لوگوں کی فکری تربیت کرتی ہیں۔ اس موقف کو بھی مد نظر رکھ لیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کی پالیسی صرف اور صرف تجارت ہے کہ اسی اخبار میں ہم نے مختلف سیاسی رہنماؤں کے اخبار نما اشتہارات بھی شائع ہوتے دیکھے ہیں جن پر پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ اشتہار نہیں اخبار ہے۔ اب آئیں اس جانب کہ اداریہ پڑھتا کون ہے؟ ہم نے چونکہ اداریے تحریر بھی کیے اور پڑھے بھی، اس لیے ہم جانتے ہیں کہ بعض اداریے عام لوگ خاص طور پر سیاسی کارکن بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ جن میں ماضی میں روزنامہ نوائے وقت، امن اور مساوات کے اداریے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ روزنامہ جنگ سے وابستگی کے دوران ہم خود بھی شذرہ تحریر کرتے رہے جو ہم ادارتی صفحے کے انچارج حیدر تقی صاحب کو ارسال کرتے تھے (حیدر تقی صاحب جنگ کے پہلے مدیر سید محمد تقی کے صاحب زادے اور رئیس امروہوی صاحب کے بھتیجے تھے۔ ہمارے لکھے ہوئے شذرے وہ جنگ کے اداریے کا حصہ بنا دیتے تھے۔ ملتان میں ایک دو بڑے حادثات اور دہشت گردی کے واقعات پر ہمارے لکھے ہوئے اداریے بھی قومی سطح پر شائع ہوئے۔ رہی یہ بات کہ کالم نگار اپنے کالموں میں اخبار کی پالیسی بیان کر دیتے ہیں تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ جب اخٰبار کی خبریں ہی بقول آپ کے آپ کی پالیسیاں ظاہر کرتی ہیں تو پھر بھلا کالم نگاروں کی یہ فوج ظفر موج بھاری مشاہرے کے ساتھ اخبار پر بوجھ کیوں بنا رکھی ہے۔
ان میں سے بعض کالم نگار صرف آپ سے ہی نہیں اور بہت سے ذرائع سے بھی بہت کچھ حاصل کرتے ہیں۔ ان میں کوئی جماعت اسلامی کا نمائندہ ہے، کوئی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہم تو یہ بھی جانتے ہیں کہ کون کون سے کالم کون کون سے موضوعات پر کس کس کے کالم کب کب شائع ہوئے۔ اور کہاں کہاں سے ان کے بارے میں ہدایت نامے جاری کیے گئے۔ ایک ہی موضوع کے کالموں کا ذکر آیا تو ہمیں ایک پریس ریلیز اداریے کی کہانی یاد آ گئی جس کا احوال ’شہاب نامہ‘ میں قدرت اللہ شہاب نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے یہ اداریہ انیس اپریل 1959 کو شائع ہوا تھا۔ قدرت اللہ شہاب صاحب کو اس روز ہنگامی بنیادوں پر اسلام آباد سے لاہور بلایا گیا۔ ان کا فلیگ سٹاف ہاؤس میں قیام تھا۔ شہاب صاحب کے ہمراہ دو ’فیصلہ ساز محسن‘ یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل برکی بھی تھے۔ امروز اور پاکستان ٹائمز پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر اہتمام شائع ہوتے تھے یہ ادارہ میاں افتخار الدین نے قائم کیا تھا۔ قدرت اللہ شہاب کے بقول وہ نہیں جانتے تھے کہ اس روز پی پی ایل پر قبضہ ہونے جا رہا ہے۔ ان دنوں امروز کے مدیر احمد ندیم قاسمی اور پاکستان ٹائمز کے مدیر مظہر علی خان تھے۔ رات گئے پی پی ایل پر قبضے کے بعد دونوں نے استعفے پیش کر دیے۔ قدرت اللہ شہاب کو رات گئے اداریہ تحریر کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ اداریہ اگلے روز ملک کے تمام اخبارات میں بیک وقت شائع ہوا تھا۔
آخر میں ہم آپ کو روزنامہ جنگ کا وہ اداریہ یاد کرائے دیتے ہیں جو 5 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے موقع پر شائع ہوا تھا۔ اداریے میں بھٹو صاحب کو دی گئی سزا کو تاریخی کردار قرار دیا گیا تھا اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے بھٹو صاحب کے لیے کی گئی رحم کی اپیلوں کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت بھی قرار دیا گیا تھا۔ بتانا یہ تھا کہ ہماری صحافت ہمیشہ سے آمروں اور غاصبوں کے حق میں آزاد رہی۔ لطف یہ ہے کہ اسی روزنامہ جنگ نے جس فیصلے کو تاریخی قراردیا گیا تھا اُسے خود فیصلہ سازوں نے بھی کوڑے دان میں پھینک دیا اور جب یہ فیصلہ ہوا تو روزنامہ جنگ نے اسے بھی تاریخ ساز قرار دے دیا۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

