گلڈ ہوٹل ایک زمانے میں ملتان کا بڑا ادبی مرکز ہوتا تھا ۔ ہم نے اس ہوٹل کی گہما گہمی کا وہ زمانہ تو نہیں دیکھا جو ایوب خان کے دور میں تھا لیکن بعد کے دنوں میں بھی 1990 کے عشرے تک اس کی رونقیں بحال رہیں ۔ یہ ہوٹل عزیز ہوٹل اور ڈیرہ اڈہ کے درمیان سرائیکی پارٹی کے بانی سیکریٹری جنرل منصور کریم سیال کے ڈیرے کے سامنے ہوتا تھا ۔ہوٹل کے سامنے ملتان آرٹس کونسل اور نیشنل سینٹر تھے ۔ اس زمانے میں شہر میں تقریبات کے یہی دو بڑے مراکز تھے ۔ ان تقریبات میں ادیب ، شاعر ، صحافی اور ماہرینِ تعلیم ہی نہیں مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک ہوتی تھیں ۔ اور ملتان آرٹس کونسل میں وہ ڈرامے کے عروج کا دور تھا ۔ ملتان کے سٹیج اداکار ، گلو کار اور موسیقار ہی نہیں لاہور اور کراچی کے فنکار بھی ڈراموں میں اپنے جوہر دکھانے کے لیے آرٹس کونسل آتے اور فراغت یا انتظار کے لمحات گلڈ ہوٹل میں گزارتے تھے ۔
اب تو نہ منصور کریم اس دنیا میں رہے اور نہ ان کا ڈیرہ باقی رہا ۔۔ ڈیرے کی جگہ اب ’’ مڈ وے ہوٹل ‘‘ بن چکا ہے ۔ جس مقام پر گلڈ ہوٹل واقع تھا ۔ یہ خالی قطع اراضی تھا۔۔ ایوب خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد 1959 میں قدرت اللہ شہاب نے اس زمانے کے قلم کاروں کو ’’ مشرف بہ عیوب‘‘ کرنے کے لیے رائٹرز گلڈ قائم کیا تو ملتان کی ایک ادب دوست شخصیت حمید الدین نے یہ اراضی حاصل کر کے یہاں ہوٹل تعمیر کیا اور اسے ادیبوں کے لیے وقف کر دیا۔۔ اس کا نام ملتان گلڈ ہاؤس رکھا گیا اور پھر یہ ’’ گلڈ ہوٹل ‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ ہمارا گھر چونکہ اس ہوٹل کے قریب ہی واقع ہے اس لیے ہم کسی کو اپنے گھر کا پتا سمجھانے کے لیے کل تک اسی ہوٹل کا حوالہ دیا کرتے تھے ۔۔ رائٹرز گلڈ ملتان کی شاخ 15 جنوری 1960 میں قائم ہوئی اس کے بانی اراکین میں آ غا شیر احمد خاموش ، کشفی ملتانی ، منشی عبدالرحمن اور صابر دہلوی شامل تھے ۔ یہ ہوٹل بھی اسی سال تعمیر ہو گیا تھا۔۔ 1960 کے عشرے میں یہ ہوٹل ملتان میں ادبی تقریبات کا مرکز رہا جن میں ملک بھر سے نامور قلم کار شریک ہوتے تھے اور وہاں باقاعدہ تنقیدی اجلاس بھی منعقد کیے جاتے تھے اس زمانے میں عرش صدیقی اور منشی عبدالرحمان رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری منتخب ہوئے ۔۔ ملتان میں رائٹرز گلڈ کے بانی اراکین میں ابنِ حسن برنی ، پروازجالندھری ، اکرام الحق تصدق رسول ، افق کاظمی ، ریاض انور ، سید احمد سعید کاظمی ، مذاق العیشی ، عبدالرشید نسیم شامل تھے ،ایوب دور کا خاتمہ ہوا تو رائٹرز گلڈ فعال نہ رہا ۔۔ ملتان میں 1990 کے عشرے میں پروفیسر اصغر علی شاہ اور حسین سحر نے کچھ عرصہ کے لیے رائیٹرز گلڈ کو تنظیمی حوالے سے فعال کرنے کی کوشش کی ۔ ایک دو تقریبات بھی منعقد ہوئیں لیکن پھر مکمل خاموشی ہوگئی ۔۔

گلڈ ہوٹل ملتان کی طرح لاہور ، کراچی ، ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں گلڈ ہاؤس قائم کیے گئے تھے ۔۔ 1980 کے عشرے میں ہم نے اس ہوٹل کے کمروں میں بہت سے ادیبوں سے ملاقات کی جو حیدرآباد ، کراچی ، بہاولپور اور دیگر شہروں سے ملتان آتے تھے ۔۔وہاں انہیں رعایتی قیمت پر کمرے بھی دیے جاتے تھے اور کھانا بھی رعایتی داموں پر ہی دستیاب ہوتا تھا۔۔
پھر اس کے بعد اس ہوٹل کی رونقیں ختم ہو گئیں۔۔ 1980 اور 90 کے عشرے میں یہ نجی بس سٹینڈ کے طور پر جانا جاتا تھا اور یہاں سے نیو خان روڈ رنر کی بسیں بھی چلتی تھیں بعد میں یہاں کارگو آ فس قائم ہوا اور کار سٹینڈ بنا دیا گیا جو بہت عرصے تک اس ہوٹل کے باہر موجود رہا پھر ہوٹل کا مرکزی کمرہ جو تقریبات کا مرکز تھا ۔۔50 سال تک اسی حالت میں موجود رہا ۔اور بھوت بنگلہ بنا رہا ۔
کل نوجوان صحافی جاوید اقبال عنبر نے ہم سے رابطہ کر کے بتایا کہ گلڈ ہوٹل کو مسمار کر کے وہاں پلازہ تعمیر کیا جارہا ہے اور وہ اس کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے ہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔۔ ہم عنبر کے ساتھ ہوٹل کے بچے کھچے حصے کو دیکھنے کے لیے موقع پر پہنچے ۔ اس کا ہال کمرہ آخری مرتبہ دیکھا جہاں نامور قلمکار بیٹھا کرتے تھے ۔ شعر و ادب کے حوالے سے بحثیں ہوتی تھیں اور چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا جاتا تھا ۔۔ اس ہال کمرے کے ساتھ بھی ہماری بہت سی یادیں وابستہ تھیں ۔ ہوٹل کے وہ تمام کمرے ختم ہو چکے تھے جن میں سے ایک کمرے میں ہم نے اختر انصاری اکبر آبادی کے ساتھ برادرم جاوید اختر بھٹی کے ساتھ ملاقات کی تھی ۔۔ نیو خان روڈ رنرز کے پارکنگ ایریا میں ہم نے اظہر سلیم مجوکہ کے ہمراہ 1983 میں منو بھائی ، اظہر جاوید ، اور اصغر ندیم سید کا استقبال کیا تھا جب وہ نسیم شاہد کی کتاب کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے ملتان آئے تھے ۔۔ اب وہاں کچھ بھی نہیں تھا بس دھول تھی اور ہمارا خوبصورت ماضی ایک ملبے کی صورت بکھرا ہوا تھا ۔ ہم نے گلڈ ہوٹل کے ملبے کو ہی غنیمت جانا اس کے ساتھ ایک تصویر بنوائی کہ ایک آدھ روز میں یہ ملبہ بھی تو یہاں سے اٹھالیا جائے گا ۔ دنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کو اثاثہ سمجھ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو ایسی کوئی روایت ہی نہیں اب بھی چند تاریخی عمارات اصل حالت میں اس شہر میں موجود ہیں ۔ ڈرتا ہوں اس وقت سے جب کوئی سرمایہ دار انہیں بھی پلازے میں تبدیل کرنے کی ٹھان لے گا ۔۔
اپنا ہی ایک شعر یاد آ گیا
شہر تعمیر کرنے والوں نے
اس کو مسمار کر دیا ہے الگ

