ہم سب کے استاد ، ملتان میں روشن خیالی ، ترقی پسندی اور انسان دوستی کی عملی تصویر پروفیسر خالد سعید نے ملتان لٹریری فیسٹیول کا جو پودا لگایا تھا وہ اب ایک تناور درخت میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس کا سہرا ان کے لاڈلے شاگرد علی نقوی اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اختر علی سید کے سر ہے ۔ گزشتہ روزفیسٹیول کا سیزن 6 تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ۔ ہم تو خیر پچھلےپندرہ روز سے اس کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن علی نقوی تو کئی ماہ سے دن رات خود کو اسی میلے کے لیے وقف کر چکا تھا ۔ اس دوران ہم بہت سے دوست ایک سے زیادہ مرتبہ اس کے گھر جمع ہوئے مختلف تجاویز پر دھواں دھار بحث ہوئی ۔ ڈاکٹر مقبول گیلانی ، ڈاکٹر عامر سہیل ، ڈاکٹر علی اطہر ، ڈاکٹر الیاس کبیر ، ڈاکٹر جام عابد ، ڈاکٹر سجاد نعیم ، شوکت نعیم قادری ، مختار احمد اور محمد مختار علی اس کی تیاریوں میں مصروف رہے ۔ ڈاکٹر انوار احمد کی رہنمائی سب دوستوں کے حوصلے بڑھاتی رہی اور لودھراں پائلٹ پروجیکٹ کے تعاون سے آخر میلہ سج ہی گیا ۔۔میلے میں ملتان کے کم و بیش تمام قلم کاروں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ لیکن بہاول نگر ، بہاول پور ، ڈیرہ غازی خان ، خانیوال اور دیگر شہروں کے ادیبوں شاعروں اور دانش وروں کی بڑی تعداد بھی اس میں شریک ہوئی ۔ اس میلے کا حاصل عالمی شہرت یافتہ نیوکلیائی ماہرِ طبیعیات پرویز ہود بھائی اور نام ور ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کے لیکچر تھے ۔۔ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں پرویز ہود بھائی کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو کا موقع بھی برادرم اختر علی سید نے فراہم کر دیا ۔۔ اس گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ اس دنیا کو عقلی بنیادوں پر پرکھنا ہی اس معاشرے میں سب سے بڑا جرم ہے ۔۔
برادرم وجاہت مسعود بھی اس میلے کی رونق بڑھانے اور انتہا پسندوں ، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو دندان شکن جواب دینے کے لیے لاہور سے ملتان آئے تھے ۔ جب تختے کی بات کرنے والا تخت لاہور سے ملتان آتا ہے تو ہمیں پھر تخت لاہور سے کوئی گلہ نہیں ہوتا کہ استحصالی قوتوں کا رنگ، نسل ، زبان اور وردی ایک ہی ہوتی ہے ۔ تخت لاہور کا ذکر آیا تو آپ کو بتائے چلیں کہ ’’ اساں قیدی تخت لہور دے ‘‘ جیسی شہرہ آفاق نظم کے خالق ، محترم عاشق بزدار کو اس میلے میں وہیل چیئر پر دیکھ کر دکھ ہوا ۔بات وجاہت مسعود سے کے دندن مبارک سے شروع ہوئی اور عاشق بزدار تک آن پہنچی ورنہ ہم بتانا یہ چاہتے تھے کہ وجاہت بھائی بھی ہمیشہ کی طرح اس فیسٹیول میں شرکت کے لیے بے تاب تھے ۔ہم کئی روز سے ان کے ساتھ رابطے میں تھے ۔۔وہ با کمال شاعر برادرم سجاد بلوچ اور بھابھی عنبرین کے ہمراہ ملتان آئے ۔ وجاہت بھائی کے ساتھ ہماری رفاقت چار عشروں پرمحیط ہے ۔ ہم نے جب دوستوں کو بتایا کہ ہم قلمی دوستی کے زمانے سے ایک دوسرے کے دکھوں کو جانتے ہیں ۔ وجاہت مسعود ان دنوں گوجرانوالہ سےہمیں خط لکھا کرتے تھے اور یہ بات ہے 1985 کی ۔یہ قلمی دوستی کیا ہوتی تھی ؟ آج فلمی دوستی کے زمانے میں سانس لینے والوں کو اس بارے میں کچھ بتانا ہم اس لیے مناسب نہیں سمجھتے کہ اب تو خط ہی نہیں بامِ یار تک جانے والے کبوتر بھی شایدماضی کا حصہ بننے والے ہیں کہ ان کا ٹھکانہ اب بزرگانِ دین کے آستانے ہی رہ گئے ہیں ۔وگرنہ تو ہر فصیل اور دیوار پر قینچیاں ان کے پر کترنے کے لیے بیتاب ہیں ۔۔ میلے میں کون کون آیا کس نے کیا کہا یہ ایک الگ کہانی ہے ۔ میلے میں ہمیں ملتان کے مصنفین کی 100 کتابوں کی رونمائی کا اعزاز حاصل ہوا اور اس رونمائی کے دوران ہمیں ڈاکٹر الیاس کبیر کا بھر پور تعان حاصل رہا کہ رات گئے گھر لوٹنے کے بعد صبح نو بجے آرٹس کونسل کے دروازے پر چشم بر راہ ہونا بہر حال ایک کام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس جانفشانی کے طفیل الیاس کبیر کے بیشتر صغیرہ گناہ تو معاف ہو ہی جائیں گے ایک دو اگر بچ بھی جائیں تو ان کے بارے میں مفتی عبدالقوی صاھب سے فتوی بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔۔ لٹریری فیسٹیول میں ڈاکٹر اسد اریب ، حارث خلیق ، فرنود عالم ،حماد غزنوی اظہر فراغ اور بہت سے دوسرے مہمانوں کی خوبصورت گفتگو نے سامعین و حاضرین پر فکر کے نئے در وا کیے ۔ ملتان آرٹس کونسل کے ڈاکٹر اسلم انصاری آڈیٹوریم کا باضابطہ افتتاح بھی اس برس اسی میلے کے ذریعے ہوا کہ وہ ملتان آرٹس کونسل کے بانی ریذیڈنٹ ڈائیریکٹرتھے 1970 کے عشرے میں ۔۔
اورایک شکریہ ہم پر واجب ہے برادرم سلیم قیصر کا جو ملتان آرٹس کونسل کے ڈائیریکٹر کی حیثیت سے ان تین دنوں کے دوران ہمیں مسلسل آسانیاں فراہم کرتے رہے ۔۔
فیس بک کمینٹ

