زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
Browsing: کالم
پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی…
1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔
اس زمانے کے ککڑ برائلر کی طرح سست الوجود اور ساکت نہیں ہوتے تھے، وہ کبھی چھت پر چڑھ جاتے کبھی بستروں کے اوپر جاکر بیٹھ جاتے ،بڑی تگ ودو کے بعد ’’چوچا‘‘ گرفتار ہوتا تو ذبح کرنیوالے کی تلاش ہوتی یہ دیسی چوچے بڑی مشکل سے قابو آتے تھے انہیں پھڑ پھڑاتے اور زور لگاتے ہوئے پکڑ کر چھری پھیرنی پڑتی تھی
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
ماضی کے کئی صاحبان اقتدار کی گردن میں سریےپڑے اور پھر جب وہ روبہ زوال ہوئے تو نہ ان کی عزت رہی اور نہ مقام۔ موجودہ حکومت کو خبردار ہوشیار اور تیار کرنے کا مطلب اسے متنبہ کرنا ہے۔ اس سے درخواست کرنا ہے کہ اپنے زوال کو روک لے خود کو تبدیل کرے وگرنہ تقدیر کا پہیہ گھومے گا اور پھر’’ لاد چلے گا بنجارہ‘‘
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔
