Browsing: شہزاد عمران خان

سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025 کے دوران جولائی تا مارچ پاکستان نے 12.53 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن پر 8.4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ خرچ ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر بچ جائے تو کئی شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر فی الحال یہ رقم ایندھن کے دھوئیں میں اڑ جاتی ہے۔

“یہ جنگ کسی نے جیتی نہیں، مگر سب ہارنے سے بچ گئے ہیں…”
اور یہی اصل کہانی ہے۔
آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے کہ یہ پندرہ دن کی جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے—سوچنے کا، اپنی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا، اور شاید اگلی چال کی تیاری کا۔ دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں امید بھی ہے اور خدشہ بھی۔

ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔

بین الاقوامی ڈیجیٹل رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فحش ویب سائٹس تک رسائی کی شرح حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ اسی طرح نیشنل چائلڈ پروٹیکشن رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کم عمر بچوں میں جنسی مواد تک رسائی کی عمر مسلسل کم ہو رہی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی غیر رجسٹرڈ ڈاؤن لوڈ شاپس ہیں جہاں نہ عمر پوچھی جاتی ہے، نہ شناخت اور نہ ہی مواد کی نوعیت پر کوئی سوال۔

راولپنڈی کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے دوران دس ہزار سے زیادہ خاندانی تنازعات اور طلاق کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح لاہور میں ہزاروں خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف قانونی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے میں رشتوں کی مضبوطی کو نظر نہ آنے والی دراڑ لگ چکی ہے۔