گلی محلوں میں پھیلی ہوئی ڈاؤن لوڈ اور ڈیجیٹل سروسز کی دکانیں بظاہر موبائل فون، یو ایس بی، میموری کارڈ اور سافٹ ویئر کی سہولت فراہم کرتی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان بند شٹروں کے پیچھے ایک ایسا خاموش کاروبار پنپ رہا ہے جو معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو آہستہ آہستہ دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ دکانیں کسی بڑے بازار یا پوش علاقے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب گلیوں، محلوں، بس اڈوں اور اسکولوں کے آس پاس تک پھیل چکی ہیں، جہاں نہ کوئی واضح رجسٹریشن ہے، نہ ریکارڈ، نہ نگرانی اور نہ ہی کسی کو جواب دہی کا خوف۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان ڈاؤن لوڈ شاپس پر فلموں، ڈراموں اور گانوں کے ساتھ ساتھ فحش اور غیر اخلاقی مواد بھی کھلے عام فراہم کیا جاتا ہے۔ موبائل فون یا یو ایس بی ہاتھ میں پکڑے بچے اور نوعمر لڑکے ان دکانوں میں جاتے ہیں، چند سو روپے دیتے ہیں اور وہ مواد لے آتے ہیں جو ان کے ذہن، سوچ اور کردار پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔ والدین یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ بچہ فون پر کوئی گیم کھیل رہا ہے یا پڑھائی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کے ذہن میں ایسے مناظر نقش ہو رہے ہوتے ہیں جو اسے وقت سے پہلے بالغ، باغی اور بے راہ رو بنا دیتے ہیں۔
اعداد و شمار اگرچہ اس کاروبار کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے، کیونکہ اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود ہی نہیں، تاہم مختلف تحقیقی رپورٹس اور سائبر کرائم ونگ کے غیر رسمی ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں فحش مواد دیکھنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ بعض بین الاقوامی ڈیجیٹل رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فحش ویب سائٹس تک رسائی کی شرح حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ اسی طرح نیشنل چائلڈ پروٹیکشن رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کم عمر بچوں میں جنسی مواد تک رسائی کی عمر مسلسل کم ہو رہی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی غیر رجسٹرڈ ڈاؤن لوڈ شاپس ہیں جہاں نہ عمر پوچھی جاتی ہے، نہ شناخت اور نہ ہی مواد کی نوعیت پر کوئی سوال۔
مسئلہ صرف فحاشی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہی مواد آگے چل کر ہراسانی، جنسی تشدد، ریپ کلچر، بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کو جنم دیتا ہے۔ پولیس اور سماجی تنظیموں کے مطابق بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں ملوث کئی ملزمان نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ ان کے ذہن کی پہلی بگاڑ فحش فلموں اور ویڈیوز سے ہوئی، جو انہوں نے بچپن میں موبائل یا یو ایس بی کے ذریعے دیکھی تھیں۔ یوں ایک غیر قانونی ڈاؤن لوڈ دکان دراصل مستقبل کے مجرموں کی نرسری بنتی جا رہی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی حکومتوں کی غفلت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسی دکانیں موجود ہیں مگر نہ تو ان کی رجسٹریشن کا کوئی ڈیٹا دستیاب ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کون، کہاں اور کس نوعیت کا مواد فروخت کر رہا ہے۔ بلدیاتی ادارے صرف دکان کے سائز اور کرایے تک محدود نظر آتے ہیں، پولیس عمومی جرائم میں الجھی رہتی ہے، جبکہ سائبر کرائم ونگ زیادہ تر آن لائن کیسز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ گلی محلوں میں ہونے والا یہ خاموش جرم کسی کی ترجیح نہیں بن سکا۔
حالانکہ پاکستان کا قانون اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 292 اور 293 کے تحت فحش مواد کی اشاعت، فروخت یا تقسیم قابلِ سزا جرم ہے، خصوصاً اگر اس میں بچوں کو شامل کیا جائے۔ اسی طرح الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (PECA) کے تحت کسی بھی قسم کا فحش، غیر اخلاقی یا بچوں سے متعلق جنسی مواد ڈیجیٹل صورت میں تیار کرنا، محفوظ کرنا یا پھیلانا سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانہ اور قید دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بچے کو ایسا مواد دکھاتا یا فراہم کرتا ہے تو اس کی سزا مزید سخت ہو گی۔
یہ وقت ہے کہ ضلعی حکومتیں، پولیس، سائبر کرائم ونگ، تعلیمی ادارے اور والدین سب مل کر اس خاموش مگر تباہ کن کاروبار کے خلاف کھڑے ہوں۔ فحاشی صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور قومی بحران ہے، اور اگر آج اس پر توجہ نہ دی گئی تو کل اس کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرے گا۔
فیس بک کمینٹ

