کچھ لوگ زندگی کے کینوس پر ایسی لکیریں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں پاتی۔ ممتاز احمد طاہر بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے، جن کا نام سامنے آتے ہی ملتان کی صحافت کا وہ دور آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتا ہے جب اخبار صرف خبر نہیں، بلکہ ایک مشن ہوا کرتا تھا۔ اخبار کا ایک نقطہ نظر ہوتا تھا، پالیسی ہوتی تھی اور کچھ لوگ جذبے کے ساتھ اپنی زندگیاں اخبارات کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ ممتاز صاحب کا شمار ایسی ہی شخصیات میں ہوتا تھا۔
’روزنامہ آفتاب‘ اور ممتاز احمد طاہر گویا لازم و ملزوم تھے۔ وہ محض ایک ایڈیٹر نہیں تھے، بلکہ ہم جیسے نو آموز لکھنے والوں کے لیے ایک شفیق استاد اور سائبان کی مانند تھے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ملتان کی ادبی اور صحافتی زندگی میں قدم رکھا، تو ممتاز صاحب کی شخصیت اپنی پوری وجاہت کے ساتھ وہاں موجود تھی۔ ان کا دفتر صرف خبروں کی کانٹ چھانٹ کی جگہ نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ایسی درس گاہ تھی جہاں ہمیں لفظوں کی حرمت اور جملے کی ساخت سکھائی جاتی تھی۔ یہ 1978 کا سال تھا جب ہم نے قرطاس و قلم کے ساتھ رشتہ جوڑا۔ اور روزنامہ امروز میں اقبال ساغر صدیقی نے ہماری پہلی تحریر شائع کی۔ ہم ان دنوں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے اسی برس ہم روزنامہ آفتاب کے دفتر پہنچے۔ پرانی سبزی منڈی کے قریب حسن پروانہ کالونی میں یہ دفتر اس زمانے میں بہت آباد تھا۔ بھٹو صاحب کے خلاف تحریک نظام مصطفی میں روزنامہ آفتاب ملتان نے اشاعت کے ریکارڈ قائم کیے۔ اس کا لے آؤٹ۔ منفرد اور تاریخی سرخیاں ان دنوں زبان زدِ عام تھیں۔ ممتاز طاہر صاحب سے ہماری ان دنوں ملاقات نہ ہوئی لیکن کیف انصاری، یونس شہزاد، ارشد خرم، مظہر جاوید، مقبول عباس کاشر، سلیم ناز، اطہر ناسک سب اس دفتر میں موجود تھے۔ کام بھی ہوتا تھا، قہقہے بھی گونجتے تھے۔ اسی زمانے میں ملتان میں سنی کانفرنس، منعقد ہوئی مولانا شاہ احمد نورانی مولانا عبدالستار نیازی، حاجی حنیف طیب سمیت ملک بھر سے نام ور علماء اور جماعت اہل سنت کے رہنما ملتان آئے، قاسم باغ سٹیڈیم مرکز نگاہ بنا اور روزنامہ آفتاب اہل سنت کا ترجمان بن گیا۔ روزنامہ آفتاب میں بچوں کا صفحہ ارشد خرم مرتب کرتے تھے جاوید چنگیزی، انعام الحق معصوم، ملنگ ملتانی، فیض رسول رجوانہ سمیت بہت سے لکھاری اس صفحے میں کہانیاں لکھتے تھے۔ ممتاز صاحب اس زمانے میں لاہور ہوتے تھے۔ اور لاہور میں بیٹھ کر ملتان کی آواز بلند کر رہے تھے۔ وہ اے پی این ایس کے مرکزی عہدیدار بنے اور پھر انہوں نے اس پلیٹ فارم سے ملک بھر کے علاقائی اخبارات کے حقوق کی جد و جہد شروع کر دی۔ روزنامہ آفتاب ملتان سے ہم 1989 میں منسلک ہوئے۔ ہمارے ساتھ اسلم جاوید اور بہت سے دیگر افراد بھی ان دنوں ملتان آفس میں کام کرتے تھے۔ تنخواہیں کم تھیں، بسا اوقات تاخیر بھی ہو جاتی تھی لیکن ماحول بہت مزے کا تھا۔ اب ممتاز صاحب جب بھی ملتان آتے ان کے ساتھ ملاقات ہوتی۔ پھر ہماری روزنامہ آفتاب لاہور کی ایک خوبصورت یاد ہے جب 1989 میں ممتاز صاحب نے ہمیں ملک سلطان مرحوم کے ساتھ لاہور بلایا۔ ممتاز صاحب کا فون آیا کہ لاہور آفس کو چند روز کے لیے آپ کی ضرورت ہے آپ ملک سلطان کے ہمراہ لاہور آ جائیں۔ ہم دونوں ٹرین پر لاہور پہنچے۔ لکشمی چوک میں آفتاب اخبار کے دفتر کے سامنے ہماری رہائش کا انتظام تھا۔ ممتاز طاہر صاحب اخبار چلانے کے لیے مختلف ذرائع تلاش کرتے رہتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے منہاج القرآن کے ڈاکٹر طاہر القادری کے تعاون سے اخبار کو نئی آب و تاب کے ساتھ شائع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ طاہر القادری نے ان دنوں پاکستان عوامی تحریک قائم کی تھی جس کا وہ لاہور میں جلسہ کرنے جا رہے تھے۔ طاہر القادری کی قیادت میں پاکستان عوامی تحریک نے 1989 میں لاہور میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کیا، جو اس جماعت کی ابتدائی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ جلسہ دراصل عوامی تحریک کے سیاسی میدان میں باضابطہ داخلے اور اپنی عوامی طاقت کے اظہار کا ایک اہم موقع تھا۔ اس اجتماع میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں طلبہ، علماء، کارکنان اور عام شہری شامل تھے۔ جلسے میں طاہر القادری نے اپنی تقریر میں اسلامی نظام، عدل و انصاف، کرپشن کے خاتمے اور عوامی حقوق کے تحفظ جیسے موضوعات پر زور دیا۔
1989 کا یہ جلسہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی مذہبی۔سیاسی آواز کو نمایاں کیا۔ بعد ازاں یہی تحریک مختلف ادوار میں انتخابی سیاست، احتجاجی تحریکوں اور اصلاحی ایجنڈے کے ساتھ منظرِ عام پر آتی رہی۔ اس جلسے کے موقع پر روزنامہ آفتاب لاہور نے اس کی مکمل کوریج اور خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا۔ اور یہ اخبار جلسے میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اسی ایڈیشن کی اشاعت کے لیے مجھے اور ملک سلطان صاحب کو لاہور بلایا گیا۔ ادارتی معاملات مجھے دیکھنا تھے اور انتظامی امور کی نگرانی سلطان صاحب کے سپرد تھی۔ انہی دنوں آفتاب لاہور میں شوکت اشفاق نامی ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ جو بعد کے دنوں میں محبت بھرے تعلق میں تبدیل ہو گئی۔
ان دنوں آفتاب لاہور میں اطہر ناسک اور رخسانہ بھی کام کرتے تھے۔ جو بعد میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ ممتاز صاحب بعد کے دنوں جب بھی ملتان آتے ان کے ساتھ ملاقات ضرور ہوتی تھی۔ اسد ممتاز ہمیں ان کے ساتھ ملوانے کے لیے لے جاتے۔ ماضی کی یادیں اور مستقبل کے منصوبے یہ سب زیر بحث آتا۔
ان کی شخصیت میں ایک عجیب قسم کا ٹھہراؤ اور متانت تھی۔ وہ بڑی سے بڑی سیاسی ہلچل یا صحافتی بحران میں بھی اپنے حواس پر قابو رکھتے۔ ان کی ادارت میں ’آفتاب‘ نے ملتان کی آواز ملک بھر میں پہنچائی۔ وہ خبر کی صداقت پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، مگر ان کا قلم کبھی زہر آلود نہیں ہوا۔ ان کا لہجہ دھیما تھا، لیکن ان کی تحریر کی کاٹ دور تک سنائی دیتی تھی۔
ممتاز احمد طاہر صاحب کی ایک بڑی خوبی ان کی انسان دوستی تھی۔ انہوں نے کتنے ہی نوجوانوں کو حوصلہ دیا، انہیں لکھنے کی راہ دکھائی اور ان کے لفظوں کو ’آفتاب‘ کی زینت بنا کر انہیں پہچان عطا کی۔ وہ جانتے تھے کہ ملتان کی مٹی زرخیز ہے، بس اسے ذرا سی توجہ اور آبیاری کی ضرورت ہے۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو ممتاز صاحب کی مسکراہٹ اور ان کا وہ مخصوص دفتری رکھ رکھاؤ بہت یاد آتا ہے۔ وہ ایک ایسے ایڈیٹر تھے جو اپنے سٹاف کو ایک خاندان کی طرح جوڑ کر رکھتے تھے۔ اب نہ وہ ’آفتاب‘ کی ویسی تابانی رہی اور نہ ہی وہ قد آور شخصیات جو صحافت کو ایک عبادت سمجھ کر کرتی تھیں۔
ممتاز احمد طاہر جسمانی طور پر تو ہم سے بچھڑ گئے، لیکن ملتان کی صحافت کے افق پر ان کی یادیں ایک روشن ستارے کی طرح ہمیشہ چمکتی رہیں گی۔ وہ ایک عہد کا نام تھے، اور عہد کبھی مرتے نہیں، صرف یادوں کے دریچوں میں محفوظ رہتے ہیں۔

