یہ موت پہلے بھی سیاہ چادر لئے عموماً
ہماری گلیوں میں گھومتی تھی
کبھی کسی پر جو پیار آتا
تو اُس کے ماتھے کو چومتی تھی
یہ ہم سے لاشیں وصول کرتی تھی
جھومتی تھی
ہمارے شہروں میں، بستیوں میں
یہ روز مہمان بن کے آتی
پر اِس طرح سے نہیں کہ پل میں
ہر ایک منظر کو خاک کردے
ہر اک گریبان چاک کردے
الاؤ کے گرد رقص کرکے
ہر ایک بستی کو راکھ کردے
یہ موت اپنے لیے نئی تو نہیں تھی لیکن
یہ اس دفعہ اس طرح سے آئی
کہ اس نے رستے میں گاؤں دیکھے نہ شہر دیکھے
نہ ماہ دیکھے نہ مہر دیکھے
نہ پھول دیکھے نہ خار دیکھے
اگر جو دیکھے تو بس جنازے
قطار اندر قطار دیکھے
اب اِس کے سر پر سیاہ چادر نہیں تھی اِس نے
سفید چنری کو بس لہو میں رنگا ہوا تھا
۔۔۔۔۔
زمین پہلے بھی ہم پہ کب اتنی مہرباں تھی
مگر یہ اتنا خیال رکھتی
کہ جب یہ لوگوں سے اُن کے پیاروں کو چھینتی تھی
تو اتنی مہلت ضرور دیتی
کہ مائیں لاشوں پہ بین کرلیں
سہاگین چوڑیوں کو توڑیں
جو باپ ہیں وہ بھی خود جنازوں کے ساتھ جائیں
اور اپنے بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے
اِس کی آغوش میں سلا دیں
پر اِس دفعہ تو زمین عجلت میں تھی سو اس نے
کسی کو رونے کی، بین کرنے کی
یا جنازوں کے ساتھ جانے کی
کوئی زحمت تلک نہ دی تھی
بس ایک کروٹ تھی اور پھر
جس طرف بھی دیکھو بس اک لحد تھی
مکان،دفتر، گلی، محلے
سکول، کالج، کچہریاں
اجتماعی قبروں میں ڈھل گئی تھیں
زمین اُس روزاپنے بیٹوں پہ
کچھ زیادہ ہی مہرباں تھی
فیس بک کمینٹ

