بنوں : خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول کے ایک ہیڈ ماسٹر اور ایک استاد کو اغوا کرلیا ہے۔
مقامی اساتذہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر رفیع اللہ اور سینیئر سائنس ٹیچر نثار علی شاہ اپنے سکول میں موجود تھے جب مسلح افراد انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح تھانہ ہوید کی حدود میں موسیٰ خیل کے قریب شیر مندائی ہائی سکول میں پیش آیا ہے۔
مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے جس کی حدود ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری جانب لکی مروت سے ملتی ہے۔
بنوں کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سلیم عباس کلاچی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں موجود ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
بنوں میں اساتذہ کی تںطیم کا ہنگامی اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں مغویوں کی بازیابی کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بنوں میں آج مسلح افراد نے ایک ٹیلیفون ایکسچینج کے احاطے میں قائم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دو عہدیداروں کو اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا اور ساتھ میں رقم بھی لے گئے ہیں۔
یہ واقعہ تھانہ میریان کی حدود میں نورڑ کے مقام پر پیش آیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کی تقسیم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور وہ اے ڈی صفی اللہ اور سپروائزر شاہ خالد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
ضلع بنوں میں سرکاری ملازمین کے اغوا کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
گذشتہ مہینے ستمبر میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے پانچ ملازمین کو اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا جب وہ بکّا خیل کے مقام پر ایک ہائی ولٹیج سپلائی لائن پر کام کر رہے تھے۔ ان ملازمین کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے۔
اس سے قبل بھی دو سرکاری ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں بعد میں مقامی افراد کی مدد سے بازیاب کیا گیا تھا۔
رواں برس اپریل میں بھی ایک سکول ٹیچر کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں مئی کے مہینے میں بازیاب کروایا گیا تھا۔
اس سے قبل ان ہی علاقوں میں سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں مقامی لوگوں کی کوششوں سے بازیاب کروایا گیا تھا۔
اغوا کے یہ واقعات صرف ضلع بنوں میں ہی پیش نہیں آ رہے بلکہ شمالی وزیرستان، لکی مروتم ٹانک، جنوبی وزیرستان اور کلاچی میں بھی تواتر سے ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
جنوبی اضلاع کے انتظامی افسران کی جانب سے ایسی ہدایات گاہے بگاہے جاری کی جاتی رہی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کو ان علاقوں میں سفر نہ کرنے کو کہا گیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو)

