بنوں : ضلع بنوں میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی کے قافلے پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے تصدیق کی کہ اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کے قافلے پر حملے میں دو پولیس اہلکار اور ایک راہگیر سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کمشنر بنوں کے سیکریٹری محمد ثاقب کے مطابق یہ حملہ بنوں میرانشاہ روڈ پر ممش خیل کے علاقے معصوم آباد میں ایک فلور مل کے قریب پیش آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ایک عدالتی پیشی پر آرہے تھے کہ رستے میں ان پر تقریباً صبح دس بجے یہ حملہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کے قافلے پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملک دشمن عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔‘
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ ’ملک دشمن عناصر کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ایسی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی ہیں۔‘
اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کون تھے؟
جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا سے تعلق رکھنے والے شاہ ولی خان نے اپنی گریجوایشن اکنامکس میں گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی ہے۔ خالد عمران نے بتایا کہ وہ دونوں ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلیم اور پھر پی ایم ایس میں سیلیکشن کے بعد تربیت بھی ایک ساتھ حاصل کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ 2009 سے 2013 تک گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور اس کے بعد شاہ ولی کسٹم کے محکمے میں تعینات ہو گئے تھے اور انھوں نے اس دوران زیادہ تر سروس بلوچستان میں کی ہے۔
خالد عمران کے مطابق ’اس کے بعد ہم دونوں نے پی ایم ایس کا امتحان دیا اور اس میں کامیابی کے بعد ابتدائی تربیت بھی ایک ساتھ حاصل کی تھی۔‘
خالد عمران نے بتایا کہ شاہ ولی خان کو اپنے علاقے سے محبت تھی، دوران تربیت جب وہ کچھ عرصے کے لیے وزیرستان میں تعینات ہوئے تو اس وقت اکثر افسر حالات کی سنگینی کی وجہ سے اپنی تبادلہ کرا لیتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بارے میں سوچا اور ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم یہ وقت اپنے علاقے میں کام کریں گے اور چونکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کام ہوتے ہیں تو وہ ہم اپنے علاقے میں بہتر طریقے سے کر سکیں گے، تا کہ اس سے علاقے کے لوگوں کی خدمت بھی ہو سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ چونکہ کورونا کا وقت تھا مشکل صورتحال تھی لیکن اس دوران انھوں نے اپنے علاقے میں زیادہ کام کیا۔
شاہ ولی کے سوگوران میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا بھی ہے۔ ان کی فیملی میرانشاہ میں ان کے ساتھ رہ رہی تھی۔
خالد عمران نے بتایا کہ ان کے ساتھ اکثر رابطہ رہتا تھا اور کبھی کبھار علاقے کے حالات کے بارے میں ایک دوسرے سے بات چیت ہو جایا کرتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں میرانشاہ میں تعینات تھا تو اس وقت شاہ ولی خان میر علی کے اسسٹسنٹ کمشنر تھے تو ہم ویک اینڈ پر میرانشاہ میں ایک ساتھ رہتے تھے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

