کراچی : شاہ ولی اللہ جنیدی کی رپورٹ ۔۔۔ماہنامہ سیپ کے بانی و مدیر نسیم درانی انتقال کر گئے ان کی عمر 87 برس تھی وہ 14 اگست 1938 کو آگرہ میں پیدا ہوئے، اور تقسیم سے چند روز قبل اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔ ان کے والد نصیر احمد خان درانی جوتا سازی کے کاروبار سے وابستہ اور پکے مسلم لیگی تھے۔ کراچی کے رام باغ موجودہ آرام باغ میں نئی زندگی کا آغاز کیا، اور یہی شہر ان کی شناخت، ان کی رہگزر اور ان کا فن بن گیا
نسیم درانی کا نام آتے ہی نصف صدی سے زائد پر محیط ایک مسلسل، خالص، باوقار ادبی سفر سامنے آتا ہے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ادبی رسالہ نکالنے کو محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کی مشقتِ عشق بنا لیا تھا پچاس برس تک "سیپ” کے شمارے شائع کرنا فقط حوصلے کی بات نہیں یہ ایک ثابت قدمی، لگن اور فن کے ساتھ عشق کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو بہت کم لوگوں کے نصیب میں آتا ہے۔ ماہنامہ سیپ” نے اردو ادب میں جو مقام حاصل کیا، وہ نہ صرف اس کے مواد کی وجہ سے تھا بلکہ نسیم درانی کے جمالیاتی ذوق، فکشن کی نزاکتوں پر گہری نظر اور قلمکاروں پر اعتماد کا بھی نتیجہ تھا۔ یہ انہی کی فکر تھی کہ تین یادگار ناولٹ نمبر اور پانچ منفرد افسانہ نمبر ادب کی دنیا میں معیار کی مثال بن گئے ہیں جن میں ۔میر انیس پر پہلا خاص نمبر بھی اُنہی کی کاوش کا ثمر تھا، جو اب تک کی تحقیقی کام کا معتبر حوالہ ہے۔
ماہنامہ سیپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر ایم اے کے دس مقالات لکھے گئے ہیں اور اسے پی ایچ ڈی کے تحقیقی موضوع کے طور پر بھی اختیار کیا گیا ہے ایک جریدے کے لیے اس سے بڑی سند اور کیا ہوسکتی ہے کہ جامعات نے اسے علمی تحقیق کا باقاعدہ حصہ بنایاہے
نسیم درانی نئے لکھنے والوں کے ایسے محسن تھے، جن کی مثال کم ملتی ہے۔ آج کے کئی معتبر قلم کار جن میں رشید امجد، سلیم اختر، مظہر الاسلام، افسر آذر، نجم الحسن رضوی ان
سب کی تخلیقی اُڑان میں "سیپ” کا حصہ شامل ہے۔ حتیٰ کہ پروین شاکر جیسی معروف شاعرہ کی ابتدائی شاعری بھی اسی جریدے کے صفحات پر جلوہ گر ہوئی۔سیپ کے 81 شماروں کے ٹائٹل معروف مصور جمیل نقش نے بنائے ہیں نسیم درانی مرحوم ادبی تنظیم پاکستان رائٹرز گلڈ کے متحرک رکن تھے اور 1995 سے 2008 تک مرکزی سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
فیس بک کمینٹ

