آج دنیا نے عالم عیسائیت کے پوپ لیو کا بے گناہ ایرانی مسلمانوں کی قتل و غارت کے خلاف احتجاج سنا
’’ میں ٹرمپ سے نہیں ڈرتا جنگ اور قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا‘‘ عین اسی لمحے تاریخ کا ایک الم انگیز مکالمہ سماعت سے ٹکرایا دل بار ندامت سے ہول اٹھا اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔۔ ایک دل خراش تذکرہ جہاں علی زین العابدین رندھے گلے کے ساتھ دلگیر لہجے میں کہہ رہے تھے کہ کوفہ و شام کے کڑے اور المناک مصائب اپنی جگہ مگر جس مصیبت نے جگر پارہ پارہ کیا وہ لوگوں کی بے حس اورخاموشی تھی ۔
امت ذلت بھری زندگی جیتی رہی اور توحید پرست پامال جسموں کے ساتھ بارگاہ عشق میں حاضر ہو گئے ۔۔
آج پھر مؤرخ سر جھکائے اسی المیہ پر دوبارہ قلم اٹھا رہا ہے جہاں آج بھی امت خاموش تماشائی بنی خیانت کا نیا باب لکھ رہی ہے۔۔ ظالموں کے تیر و تفنگ کی امین بن کر فرعونی تکبر کی ہمنوائی میں خاموش تماشائی ہے ۔۔
علی لاریجانی اپنے تاریخی خط میں نام نہاد امت کو مخاطب کر کے اس صدی کا مرثیہ لکھ کر رخصت ہوا بے شک اس سرخرو شہید کے تذکرے کے ساتھ تاریخ اس عظیم بیانیے کو اپنے سینے میں محفوظ رکھے گی اور زمانے اس تلخ سچائی پر اور حق کی تنہائی پر گریہ کناں رہیں گے ۔۔
مقام شکر ہے کہ ملت پاکستان ان مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز احتجاج بلند کر رہی ہے۔۔شہدائے حق کو سلام پیش کر رہی ہے جس کے جواب میں یہ مظلوم ملت پاکستان کے لیے تشکر تشکر کے نعرے بلند کر رہی ہے یہ نعرے بھی تاریخ نے قلم بند کر لیے ہیں۔
عالم ِ عیسائیت تک اس ظلم پر تڑپ اٹھا اور مسلمان اپنی روایتی بے حسی میں ظالمین کے سہولت کار رہے ۔۔کل تاریخ انہیں مجرموں کی صف میں کھڑا کرے گی
کربلا تاریخ کی سب سے بڑی عبرت ہے جہاں عیسائی آبادیوں نے فوجِ شام کے خلاف احتجاج کیے اور کئی مقامات پر کوفہ و شام کے راستے میں شامی فوجوں سے مقابلہ کیا رسول زادیوں کو چادریں پیش کی گئیں یہاں تک کہ ایک دیر کے راہب نے اپنے کلیسا کا سارا خزانہ دے کر سرِ حسین کو فقط ایک رات کے لیے مستعار لے کر غسل دیا، تکریم کی ،روتا رہا اور پھر اسکی زندگی میں ایسی صبح طلوع ہوئی جہاں وہ ایمان کی روشنی سے اپنا دل منور کر چکا تھا اور ہزاروں دینار کے یزیدی انعام کے لالچ میں حریص مسلمانوں کو (اب بھی یہی المیہ جاری ہے)رو رو کر احساس دلاتا رہا کہ یہ تمہارے رسول کی اولاد ہے تم کس قدر بدبخت اور شقی ہو..! کہ مال دنیا کے بدلے میں غضب الٰہی خرید رہے ہو
تاریخ پھر کروٹ بدل کر ایک اورمنظر کی طرف متوجہ کرتی ہے یہ دربار یزید ہے جہاں یزید ابن معاویہ آبِ کوثر سے دھلی لہو لہان جبینِ حسین کو طشت میں رکھ کر اپنی عارضی فتح کا جشن منا رہا ہے دوسرے ملکوں کے سفراء بھی مدعو کیے گئے ہیں یہاں تک کہ ایک نصرانی سفیر جو روم کی سلطنت کی نمائندگی کر رہا ہے حیران کن لہجے میں گویا ہوتا ہے۔۔ کیا واقعی یہ سر تمہارے نبی کے فرزند کا ہے؟؟ یزید اس سوال پر تلملاتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہیں اس سر سے کیا مطلب تم ہمارے ساتھ فتح کا جشن منانے کے لیے شریک ہوئے ہو دادِ عیش دو اور رخصت ہو جاؤ۔۔۔ جواب میں عیسائی سفیر وضاحت کرتا ہےا کہ میں واپس جا کر بادشاہ تک فتح کی تفصیلات پہنچانے کا پابند ہوں۔۔۔! ہاں یہ فرزندِ فاطمہ بنت محمد کا سر ہے یہ کہنا تھا کہ سفیر روتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا رخساروں پر ہاتھ مارےاور کہا وائے ہو تم پر !! میرے اور حضرت داؤد کے درمیان کئی سو نسلوں کا فاصلہ ہے مگر تمام نصرانی میرے قدموں کی خاک اٹھا کر بطور تبرک اپنے پاس رکھتے ہیں کیا تم نے گرجا حافر کی داستان سنی ہے؟؟ عمان اور چین کے درمیان ایک دریا ہے جہاں ایک شہر آباد ہے جو عیسائیت کے قبضے میں ہے اس گرجا گھر میں سونے کے ایک برتن میں حضرت عیسیٰ کے گدھے کا سُم موجود ہے۔ ہر سال عیسائی اس کی زیارت کو آتے ہیں اور اس شہر میں ننگے پاؤں داخل ہوتے ہیں گریہ و زاری کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔۔ یزید نے اس المیہ کی نزاکت محسوس کر کے اس سفیر کے قتل کا حکم جاری کیا ۔ بڑھا سرِ حسین کو بوسہ دیا اور پھر اس سفیر کو قتل کر دیا گیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں امریکی عوام کو ایک خط لکھا ہے جس میں عوامی عیسائیوں کو اپنے احوال سے مطلع کیا ہے یہ خط پڑھنے کے لائق ہے مسعود کہتے ہیں کہ تم اپنی ٹویٹ کی پوسٹ شیئر کرنے کے عادی ہو اور ہم ملٹری پوسٹوں پر اپنے لہو سے اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں بے گناہ سرخ لہو کی طاقت جان لو کہ یہ لہو ہمیشہ تاریخ میں فاتح رہتا ہے ایک فکر انگیز خط ہے جو عیسائیوں کی تعلیمات کے مطابق ان کے ضمیر جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے۔۔میرے نزدیک یہ دو خط اس پوری جنگ کا وہ بیانیہ ہیں جسے صدیوں تک جھٹلایا نہ جا سکے گا۔۔اوردنیا داری کے نشے میں لڑکھڑاتے ڈگمگاتے تخت نشین نام نہاد مسلمان حشر کے دن آقا سے منہ چھپاتے پھریں گے۔
فیس بک کمینٹ

