بنوں : پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خیبر پختونخوا میں پولیس پر حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے جہاں گذشتہ روز تین مختلف واقعات میں کم از کم سات پولیس اہلکار اور ایک پولیس اہلکار کا کم عمر بیٹا ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں تین بھائیوں کے اغوا کے بعد آج صبح دو کی لاشیں ملی ہیں۔ بنوں پولیس کے مطابق تینوں بھائی سرکاری ملازم تھے جن میں دو پولیس اہلکار تھے اور ایک کمشنر آفس میں کام کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع بنوں کے علاقے حسن خیل سوکڑی فقیر کلی کی ایک مسجد میں پیش آیا جب لوگ نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ تقریباً 10 سے 12 افراد ایک مخصوص یونیفارم میں مسجد میں آئے اور تینوں بھائیوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
ان بھائیوں کی شناخت سعید اختر، امجد اور حضرت اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان میں سعید اختر کمشنر آفس میں جبکہ امجد اور حضرت اللہ وزیر سب ڈویژن پولیس میں ملازم تھے۔
آج صبح دو بھائیوں امجد اور حضرت اللہ کی لاشیں بنوں میں مروت کینال کے علاقے سے ملی ہیں۔ یہ دونوں پولیس اہلکار تھے۔ سعید اختر اب تک لاپتہ ہیں۔
بنوں میں ریجنل پولیس آفس کے ترجمان نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد مسجد میں داخل ہوئے اور ان تین بھائیوں کو پکڑ کر ان کے ہاتھ باندھ دیے اور اپنے ساتھ لے گئے تھے۔‘
اس بارے میں بنوں کے ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان اور ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
بعد میں بنوں پولیس کے جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’نمازِ تراویح کے دوران دہشتگردوں نے سوکڑی حسن خیل کی مسجد سے دو پولیس اہلکاروں سمیت تین بھائیوں کو اغوا کر لیا اور بعد ازاں دو اہلکار بھائیوں کو بے دردی سے شہید کر دیا جبکہ ان کا تیسرا بھائی تاحال دہشتگردوں کے قبضے میں ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

