"ساٹھ کی دہائی میں، میری نوجوانی کے دور میں، شاعری کے الفاظ اس وقت زیادہ پُر معنی ہو جاتے تھے جب وہ موسیقی کی دھنوں میں ڈھل کر ایک ایسے خواب کا روپ دھار لیتے جو پدرسری نظام (patriarchal code) اور نوآبادیاتی ‘ثقافتِ خاموشی’ کے خلاف سماجی تبدیلی کا داعی ہوتا۔ زندگی کی سماجی محرومیوں کے درمیان، کلاس روم میں اشعار کی تکرار اور لاؤڈ اسپیکر کی بے ہنگم شور کے برعکس، موسیقی کی ایک لے اچانک حواس کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔
جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، میں موسیقی کا کوئی باقاعدہ عالم نہیں ہوں۔ میں نے ‘شوپن ہار’ (Schopenhauer) کا ہندوستانی موسیقی پر ایک مضمون پڑھا تھا جس میں ‘لاشعوری فلسفی’ یا دوسرے لفظوں میں ‘نغمگی کی طاقت کا اسیر’ جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی تھیں۔ میں نے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا تھا اور مجھے ‘بھاشا’ کی وہ مسخ شدہ تاریخ پڑھائی گئی تھی جو نصاب کا حصہ تھی۔ چنانچہ، ریڈیو اور ‘ہز ماسٹرز وائس’ (گراموفون ریکارڈز) ہی وہ ذرائع تھے جن کے ذریعے موسیقی کی لہروں تک رسائی ممکن ہوئی۔
میں ‘خیال’ اور ‘ٹھمری’ کے درمیان تکنیکی فرق سے تو واقف نہیں تھا، لیکن استاد بڑے غلام علی خان کی آواز میں جب یہ سطر گونجتی: ‘یاد پیا کی آئے’، تو یہ حواس میں کئی طرح کے ارتعاش پیدا کر دیتی۔ بیسویں صدی میں موسیقی کی یہ لے عورت کے دکھوں اور تکالیف کے گرد گھومتی تھی، مگر ساتھ ہی اس میں زندگی کی امید اور رجائیت بھی شامل تھی؛ گویا یہ کلاسیکی موسیقی اور غم کے اندر چھپی ایک ایسی خوشی کا سنگم تھا جو نغمگی میں ڈھل کر سامنے آتا۔”
فیس بک کمینٹ

