کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری
کراچی : گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعہ ہفتہ کی شب گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا ہے اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔مکمل خبر کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
یہ واقعہ سنیچر کی شب گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا ہے اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
دھماکے کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
ریسکیو کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق اس واقعے میں ابھی تک تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے سی ای او ڈاکٹر عابد جلال، جو اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رینجرز کا دفتر ہے جہاں پہلے دستی بم پھینکا گیا، جس کے بعد سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اب تک دو رینجرز اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم فائرنگ تاحال جاری ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت کسی کو بھی جائے وقوعہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ واقعے کی نوعیت کا فوری تعین کیا جائے، پولیس بلا تاخیر جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے اور ضروری اقدامات یقینی بنائے۔
شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ابھی بھی جاری ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

