اسلام آباد : پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسلام آباد میں ’اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی‘ کرتے ہوئے مبینہ طور پر 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد کیا ہے اور انسانی اعضا کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں حراست میں لے لیا ہے۔
’پلیسینٹا‘ حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والی عضو ہے اور یہ امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔ پلیسینٹا بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان مبینہ باہمی ملی بھگت کے ساتھ انسانی پلیسنٹا کو ’بھیڑ کا پلیسنٹا‘ ظاہر کر کے اسے تجارتی مقصد کے لیے بیرون ملک بھیجتے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق برآمد ہونے والے پلیسنٹا کے نمونے مزید کارروائی کے لیے پمز بھجوائے گئے ہیں۔
ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مانیٹرنگ آفیسر حنا کنول نے بی بی سی اُردو کو بتایا پمز نے یہ نمونے اکٹھے کر کے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور کو بھجوا دیے ہیں تاہم ابھی تک حتمی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
تاہم ایف آئی اے کی جانب سے اس کیس کی تفتیش پر معمور ایک افسر اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی آفیسر حنا کنول کا دعویٰ ہے کہ برآمد ہونے والا انسانی پلیسینٹا ہی ہے جو ملزمان مبینہ طور پر مختلف ہسپتالوں سے پیسوں کے عوض اکٹھا کرتے تھے۔
ایف آئی اے نے یہ کارروائی ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے دو سیکٹرز میں کی ہے اور اس کا مقدمہ ’ہوٹا‘ کی ایک عہدیدار کی مدعیت میں تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
جبکہ تین مزید زیرِ حراست افراد (بشمول ایک چینی شہری) کے اس معاملے میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں انسانی اعضا اور ٹشوز کے کاروبار اور فروخت کی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات موصول ہوئی تھیں، جس پر 24 جون (بدھ) کو علاقے میں موجود ایک نجی رہائش گاہ پر مشترکہ چھاپہ مارا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ اس گھر کو ’انسانی پلیسینٹا محفوظ کرنے اور اسے پروسیس کرنے کی ایک فیسیلیٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق اس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر اس کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں تین چینی شہریوں اور دو پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ گرفتار کیے گئے ایک چینی شہری سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ سیکٹر ای 11 میں واقع ایک اور مقام پر بھی یہی کام ہو رہا ہے، جس کے بعد وہاں فوراً کارروائی کی گئی اور وہاں سے ’متعدد کنٹینرز اور ریفریجریٹرز میں بڑی تعداد میں پلیسینٹا برآمد ہوا۔‘
( بشکریہ :بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

