سرگودھا : ’بچے کی گمشدگی پر ہم ساری رات جاگتے رہے اور اسے تلاش کرتے رہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی دوست کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا ہو گا، لیکن ہمارا دل نہیں مان رہا تھا کیونکہ بیٹے نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔‘
یہ کہنا ہے پنجاب کے ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں میں رہنے والے محنت کش کا، جن کے مطابق ان کے 14 سالہ بیٹے کو 25 جون کو زمین میں دبا دیا گیا تھا اور 26 جون کو اہلِ علاقہ نے اسے نیم بے ہوشی اور زخمی حالت میں زمین سے نکالا تھا۔
بچے کی والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے بتایا کہ ’اس کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا اور اس نے یہ بات ملزم کے بڑے بھائی کو بتا دی تھی، جس کے بعد ملزموں نے بدلہ لینے کے لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین میں دفن کر دیا۔‘
بچہ اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سرگودھا میں زیرِ علاج ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
سرگودھا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ درج کر کے ملزموں کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔تینوں ملزم آپس میں سگے بھائی ہیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے اس وقوعہ میں استعمال ہونے والی اشیا، زمین کھودنے کے آلات، اسلحہ، اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی یا موٹرسائیکل برآمد کی جانی ہیں، جبکہ کسی ممکنہ شریک ملزم کے بارے میں بھی تفتیش جاری ہے۔
ایف آئی آر میں درج واقعے کی تفیصلات کی مطابق بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ 25 جون کی شام 4:30 بجے ان کا بیٹا مجلس (محرم کی مجلس) کے لیے گھر سے گیا اور جب رات گئے تک واپس نہ آیا تو تلاش شروع کی گئی اور پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ 26 جون کو دن 11 بجے تلاش کے دوران اچانک بچے کے رونے کی آواز آئی، جب تلاش کرنے والے وہاں پہنچے تو بچہ نیم بے ہوشی کی حالت میں زمین میں دبا ہوا تھا اور ٹانگ نظر آ رہی تھی۔
ایف آئی آر میں والدہ نے بیان کیا ہے کہ بچے کو زمین سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا اور ہوش میں آنے پر اس نے بتایا کہ 20 دن قبل ملزم نے اس کا ریپ کیا تھا اور ملزم کے بڑے بھائی کو اس کے متعلق آگاہ کرنے پر یہ واقعہ پیش آیا۔
والدہ نے ایف آئی آر میں درج کرایا ہے کہ ’ہوش میں آنے پر ان کے بیٹے نے بتایا کہ 25 جون کو شام پانچ بجے ملزم نے اسے پکڑ کر کہا کہ ریپ والی بات بڑے بھائی کو کیوں بتائی۔‘ ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران ملزم کے دونوں بھائی بھی وہاں آ گئے اور مار پیٹ کرتے ہوئے بچے کو فصلوں میں لے گئے اور بچے کو زمین میں دبا دیا۔
سرگودھا پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزموں کو معلوم نہیں تھا کہ گڑھے کا ایک حصہ کھلا رہ گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے کی ٹانگ باہر رہ گئی۔
ترجمان کے بقول: ’بچے کو زخمی حالت میں نکالا گیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔‘ بعد ازاں بچے کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس نے بیان دیا کہ ’ملزم اور اس کے دو بھائیوں نے ریپ کی شکایت کا بدلہ لینے کے لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین میں دبا دیا۔‘
پولیس کے مطابق اس بیان کے بعد کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

