Browsing: ایران

ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے

اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘
اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!