Browsing: ایران

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو عسکری شکست کا سامنا ہوا، اس کی نیوی ختم کر دی گئی، ایران کے سیکڑوں میزائل ہدف پر پہنچنے سے پہلے تباہ کیے گئے، فضائیہ تباہ کردی گئی، ایران نے ہماری شرائط سے انکار کیا، نئی ایرانی رجیم سمجھتی ہے کہ ڈیل بہتر ہے ، حالیہ جنگ میں ایرانی کی سپریم کونسل کی قیادت ختم کی گئی، ایران کی دفاعی قیادت، عسکری اور اینٹلیجنس قیادت کو ختم کیا گیا۔

ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران پر جہنم برپا کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری مرتبہ مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔

ایران میں قیادت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایرانی نظام نے اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود حکومتی نظام برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ غیر واضح ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان رابطوں اور اعتماد کی کیا صورت حال ہے۔ اس ماحول میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے۔

ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔

وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔