’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
Browsing: ایران
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ،خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔
مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔
سینیئر عہدیدار نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا کی ملاقات کی درخواست پر ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی امریکی درخواست کا جواب دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے بقول ایران کے سینیئر عہدیدار نے اس مجوزہ ملاقات کے مقام یا اس سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
وزارت نے زور دیا کہ یہ حملے بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسلامی اقدار و اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔
جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔
