زیارت : بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں نا معلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ مانگی ڈیم کے علاقے میں پیش آیا۔
ان کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کے تعمیراتی مقام پر تعینات تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعض اہلکار لا پتہ بھی ہیں۔
اس واقعے کے خلاف گذشتہ شب سے ضلع پشین میں خانوزئی کراس کے مقام پر نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد علاقے میں آئی اور 20 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے کہا ہے کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچ پہنچ گئے، جبکہ رضوان نامی ایک کانسٹیبل کو بھی بازیاب کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری تا حال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
مانگی کہاں واقع ہے؟
مانگی بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
حکومتِ بلوچستان یہاں اربوں روپے کی لاگت سے مانگی ڈیم تعمیر کر رہی ہے، جس کا مقصد کوئٹہ کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔
مانگی کے علاقے میں ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
اگست 2021 میں یہاں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں لیویز فورس کے تین اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

