ہم اپنی سیاسی تاریخ میں خاموشی کے منطقے سے گزر رہے ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے 25 مارچ 1971 کے بعد بقول صدیق سالک ’ڈھاکہ ایک رات کی مار دھاڑ کے بعد سُن ہو گیا تھا‘۔ زندہ قوموں میں خاموشی کے یہ منطقے اچھا شگون نہیں ہوتے۔ پابلو نیرودا نے سپین کی خانہ جنگی پر اپنی نظم“I am explaining a few things” میں لکھا تھا۔ ’اس کے بعد آگ تھی، بارود کی بو تھی اور لہو کی بارش تھی‘۔ ایسی خاموشی میں سی سی ڈی کی بندوقوں سے نکلتی گولیوں کی تڑتڑاہٹ البتہ سنائی دیتی ہے اور اس پر میرے دوست یاسر پیرزادہ کے سواکسی کو آواز اٹھانے کا یارا نہیں ہوتا۔ یاسر پیرزادہ ٹھیک اسی طرح اندھے اقتدار کے پہیوں تلے کچلے جانے والوں کا شمار کر رہا ہے جیسے شیکسپیئر نے کنگ لیئر میں لکھا تھا۔”As flies to wanton boys are we to the gods; They kill us for their sport.”۔ فرانکو کے سپین میں بھی بردہ فروش اہل دانش فسطائیت کی تائید میں دلائل گھڑا کرتے تھے۔ پاکستان میں بھی گوجرانوالہ کے پارسا تاجراور سرگودھا کے متقی وکیل خاموش ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ ریاست کی وردی میں ملبوس قاتل آئندہ کل اپنے نام پر ’حاجی صاحب‘ کا طغرہ سجائے لوٹے گا اور اخبارات میں دوٹوک کالم لکھے گا۔ اس کا ایک بھائی پارلیمنٹ میں کرسی نشین ہو گا اور دوسرا کسی عدالت میں منصف بنا بیٹھا ہو گا۔ فرد جرم تو حتمی تجزیے میں سیاستدان کے خلاف لکھی جائے گی۔
برطانیہ کے معروف صحافی مارٹن وولف کی یہودی نژاد ماں کے تیس اہل خانہ ہولوکاسٹ میں مارے گئے تھے۔ اس پس منظر میں پرورش پا کر مارٹن وولف سیاسی انتہا پسندی سے متنفر ہو گئے۔ معاشیات اور فلسفے میں تعلیم پائی۔ وارفتہ طبع مارٹن وولف اپنے علم اور مشاہدات کی روشنی میں سیاسی رائے بدلتے رہتے ہیں۔ جوانی میں بائیں بازو کی طرف رجحان تھا۔ ورلڈ بینک سے وابستگی کے مشاہدات کی روشنی میں دائیں بازو کی طرف پلٹے اور آزاد منڈی کے حامی ہو گئے۔ ان دنوں سرمائے کی منہ زور یلغار سے جمہوری آزادیوں کو درپیش خطرات سے خائف ہیں۔ ’جمہوری سرمایہ دار ی کا بحران‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں جمہوریت اور آزاد منڈی کے ناگزیر تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ سمجھنا چاہا ہے کہ اگر چند لوگوں کی دولت میں اندھا دھند اضافہ ہو رہا ہے تو دنیا میں غربت اور بیروزگاری کیوں بڑھ رہی ہے۔ مارٹن وولف سیاست میں مقبولیت پسند رجحانات کے سخت ناقد ہیں تاہم جمہوریت اور آزاد منڈی سے مکمل مایوس نہیں ہوئے۔ مارٹن وولف کے مطابق جمہوریت کی روح انسانوں کے اظہار کی آزادی سے تعلق رکھتی ہے۔ خوف، تشہیر، تفرقے اور ریاستی شوروغوغا سے آزاد شہری ہی صحیح معنوں میں جمہوری انتخاب کا اہل ہوسکتا ہے۔ اگر شہری خوفزدہ، مرعوب یا خاموش کر دیا جائے تو جمہوریت اپنا کام نہیں کر سکتی اور خاموشی کے اس منطقے میں بھیڑیے اپنی کچھار بنا لیتے ہیں۔
پاکستان میں کسی بھلے بھانس صحافی سے پوچھئے کہ گزشتہ دس برس میں ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے میسر منطقے میں وسعت آئی ہے یا کشت قلم میں سکڑاؤ آیا ہے۔ مجھ غریب سے پوچھیں تو 2018 تک کالم میں بارہ سو یا چودہ سو لفظ لکھ سکتے تھے۔ اب ایک ہزار الفاظ کی بندش سے واسطہ ہے۔ وسیع عدسے سے دیکھئے تو 2017 میں پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں پانچویں نمبر پر تھا۔ آج اس درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 24 ہے۔ آپ کو شاید یہ تقابل پسند نہ آئے لیکن 2014 میں بھارت کی معیشت کا عرفی حجم دو کھرب ڈالر کو پہنچا تھا۔ اُس برس ہم نے اسلام آباد میں دھرنے کی اندر سبھا سجائی تھی۔آج بھارت کی معیشت کا عرفی حجم 4.17 کھرب ڈالر ہے۔ گویا 2014 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا۔ اگر آپ ارب اور کھرب میں فرق سمجھتے ہیں تو جان لیجئے کہ 2017 میں پاکستان کی معیشت کا عرفی حجم 339.2 ارب ڈالر تھا جو 2026 میں 408 ارب ڈالر پر زلیخائی کر رہا ہے۔ اس بیچ ہم پر 2019 اور 2020 کے سنہرے برس بھی گزرے جب ٹویٹ کے ذریعے اہل پاکستان میں عزت اور ذلت کے وثیقے بانٹے جا رہے تھے اور اخبار نویسوں کو چھ ماہ تک صرف مثبت خبریں دینے کا حکم تھا۔ صاحب چھ ماہ میں تو تیزگام قومیں محمل کو جا لیتی ہیں۔ ہمارا پہیہ 9مئی کی کھائی میں رکا ہوا ہے۔ بے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔ ہماری داخلی صورتحال یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں سات کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بظاہر فی کس آمدنی بڑھی ہے لیکن در حقیقت عام شہری 2018کے مقابلے میں غریب تر ہوا ہے اور حکومت ایسی قانون سازی کے درپے ہے جس کی آڑ میں شہریوں کے آزادانہ انتخاب رائے کو مزید زنجیریں پہنائی جا سکیں۔ ان زنجیروں سے خاموشی کا منطقہ برآمد ہوتا ہے۔
ایک پرانا قصہ سنیے۔ 6 مارچ 1953 کی صبح کراچی میں مرکزی کابینہ کا اجلاس جاری تھا۔ لاہور میں ممتاز دولتانہ کے دست مبارک کی بدولت فسادات کی آگ بھڑک رہی تھی اور میر نور احمد پارسا صحافت کی بولیاں لگا رہے تھے۔ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کابینہ کے اجلاس سے اٹھ کر ملحقہ کمرے میں گئے اور لاہور کے کور کمانڈر جنرل اعظم خان کو فون پر حکم دیا کہ لاہور میں مارشل لا لگا دیا جائے۔ اعظم خان نے کہا کہ ’سر اس میں شہریوں کی جانیں جائیں گی‘۔ سکندر مرزا نے جواب دیا کہ ’مجھے معلوم ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم نے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کیا‘۔ چند روز کی مار دھاڑ کے بعد لاہور تو خاموشی کے منطقے میں چلا گیا مگر لاہور پر اترنے والی سپاہ گلیوں کی صفائی، ذخیرہ اندوزوں کی داروگیراور بے ہنگم ٹریفک بہتر بنانے میں مصروف ہو گئی۔ 14 مئی 1953 کو مارشل لا اٹھایا گیا تو روزنامہ ڈان نے اداریہ لکھا۔’لاہور میں فوجی حکمرانی کی یادیں بہت دیر تک زندہ رہیں گی۔ شہر کا نیا رنگ روپ نکل آیا ہے اور فوج نے عوام میں نظم و ضبط کا جو احساس پیدا کیا ہے وہ جنرل اعظم خان اور ان کے رفقا کی اچھی کارکردگی کی یاد دلاتا رہے گا‘۔ ایسے اداریے ہی خاموشی کے منطقوں کا دروازہ کھولتے ہیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

