ادب کسی ایک خطے،زبان یا قوم کی میراث نہیں ہوتا۔یہ انسان کے اجتماعی شعور کی آ واز ہے جو سرحدوں،نسلوں اور زمانوں سے ماورا ہے۔اچھا ادب ہمیشہ انسان سے مخاطب ہوتا ہے،چاہے وہ ماسکو اور یورپ کی سرد راتوں میں لکھا گیا ہو یا ملتان کی تپتی دو پہروں میں۔ اس کی سچائی مقامی نہیں بلکہ آفاقی اور اجتماعی ہوتی ہے۔جس کی ایک مثال روسی ادب بھی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی تازہ تصنیف روسی ناول:چند مطالعات روسی ادب کو اردو قاری کے قریب لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔اس سے پہلے کہ میں کچھ لکھوں،اساتذہ کے گہرے تجزیوں کے سامنے ہمیشہ اپنا دامن الفاظ خالی محسوس کرتا ہوں۔لیکن یہ چند سطور محض سیکھنے کے عمل کا تسلسل ہے۔یہ مختصر مگر جامع کتاب 120 صفات پر مشتمل ہے جسے گرد و پیش پبلیکشنز ملتان سے رضی الدین رضی نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے اس کا انتساب نیا مکتبہ اور عطا اللہ ملک مرحوم کی یاد کے نام کیا ہے۔روسی ناول: چند مطالعات میں ڈاکٹر صاحب نے چھ بڑے روسی ناول نگاروں کے کاموں کو موضوع بنایا ہے.اور جن ناولوں پر بات ہوئی ہے ان میں الیگزینڈر پشکن کا "دبروسکی” "کپتان کی بیٹی” نکولائی گوگول کا "مردہ ارواح”فیودر دستو ئیفسکی کا ناول "جرم و سزا” نکولائی چرنیشے ویسکی کاناول "کیا کیا جائے” لیو نکولائی وچ ٹالسٹائی کاناول "اینا کرنینا” اور ایوان ترگنیف کی داستان حیات کے ساتھ ساتھ "رودین” اور "باپ اور بیٹے” کا مطالعہ شامل ہے.
اس کتاب کا تبصرہ اسے دیگر کتابوں کے تبصروں سے الگ کرتا ہے۔اس میں ڈاکٹر صلاح الدین حیدر روسی ناولوں کے پلاٹ یا کرداروں پر بات نہیں کرتے بلکہ وہ ہر ناول کے پیچھے چھپے ہوئے سماجی اور سیاسی حالات کو بھی سامنے لاتے ہیں مثلا وہ بتاتے ہیں کہ زار کے وقت میں لکھا گیا ناول اس وقت کے جبر،غربت اور طبقاتی کشمکش سے کیسے جڑا ہوا ہے۔یوں قاری خود بخود ناول کو اس کے زمانے کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہے اور اس طرح اس کی معنویت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
ایک اہم بات کہ روسی ادب کے پس منظر کو سمجھے بغیر ان تحریروں سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل ہے۔روسی ادب میں انیسویں صدی کا دور سنہری دور تھا۔جس کی بنیاد الیگزینڈر پشکن نے رکھی۔اس نے روسی زبان کو ادبی سطح پر وہ مقام دیا جو پہلے فرانسیسی اور جرمن کو حاصل تھا۔رضی الدین رضی کے بقول "انہوں نے زبان کو محض اظہار نہیں رہنے دیا, اسے احساس کی ایسی شریان بنا دیا،جس میں قوم کی روح دوڑتی ہے۔”
اٹھارویں سے 19ویں صدی میں زار کے روس میں کسان کی غلامی اور رئیس کی تہذیب ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ایک طرف ملکیت کا غرور تھا تو دوسری طرف محرومی کا زخم۔الیگزینڈر پشکن کا ناول "دبروسکی” انہی حالات کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ الیگزینڈر پشکن کے بعد گوگول آیا۔جس نے اپنے ناول "مردہ ارواح” میں سرکاری نظام کی بدعنوانی اور معاشرے کی بے حسی کو بے نقاب کیا.بقول مصنف "گوگول کا اصل موضوع تو سماجی بھول بھلیاں ہیں اور اس دور کی بدلتی دنیا میں پیچیدہ حالات میں جن میں مردوں کی سوداگری کے ناطے ایک کچلی ہوئی شخصیت نے بقا کی جنگ لڑی۔”
گوگول کے بعد 1850 اور 1860 کی دہائیوں میں ترگنیف اور چرنشیےویسکی جیسے لکھاری سامنے آئے۔ترگنیف نے "باپ اور بیٹے” میں پرانی روایات اور نئے خیالات کے ٹکراؤ کو واضح کیا۔اس کے ناول "باپ اور بیٹے” میں دو نسلوں کا بعد اور سوچ و افکار کا فرق اور اس کے پیچھے چھپی ہوئی کشمکش اس کا مرکزی خیال ہے۔اس کے ناول "رودین” اور "باپ اور بیٹے” کے مرکزی کردار رودین اور بازاروف جیسے کردار ہر معاشرے میں سماج کی ابتری حالت اور سوچ و بچار پر قدغن اور جدیدیت سے نفرت کی بنیاد پر جنم لیتے ہیں۔اسی دور میں چرنشیےویسکی نے ” کیا کیا جائے” کے ذریعے نوجوانوں کو سماج بدلنے کا عملی راستہ دکھایا۔یہ اس قدر مقبول ہوا کہ اسے روسی رہنماؤں نے بھی پڑھا۔
اگر ہم روسی ناول کا عروج دیکھیں تو دستوئیفسکی اور ٹالسٹائی کے ہاں نظر آ تا ہے۔ دستو ئیفسکی نے ” جرم و سزا” میں ایک قاتل کے ذہن کی پیچیدگیوں کو بیان کیا ہے۔اس نے دکھایا ہے کہ کیسے ایک انسان جرم کے بعد اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔دوسری طرف ٹالسٹائی نے”اینا کرنینا” میں عورت،محبت، خاندان اور مذہب کے آپس کے رشتے کو کہانی کا موضوع بنایا۔اس نے مرد کے ذاتی فیصلے کو پورے سماج کے تناظر میں پرکھا۔
اگر ہم روسی ناول کو مجموعی طور پر دیکھیں تو اس کی تین بڑی خاصیتیں ہیں۔پہلی بات یہ کہ یہ ناول بڑے فکری اور فلسفیانہ سوال اٹھاتے ہیں۔دوسری بات یہ کہ یہ اپنے عہد کی سماجی اور سیاسی حقیقت کو پوری دیانت داری سے بیان کرتے ہیں۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ یہ انسانی نفسیات کی گہرائی میں اترتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سو سال کے بعد بھی ان کا اثر کم نہیں ہوا۔
زیر مطالعہ کتاب میں ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی زبان سادہ اور رواں ہے۔انہوں نے مشکل تنقیدی اصطلاحوں سے گریز کیا ہے۔اسی وجہ سے یہ کتاب صرف ادب کے استادوں یا محققین کے لیے ہی نہیں بلکہ عام دلچسپی رکھنے والے قارئین و طالب علموں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔وہ یہ بنیادی بات سمجھاتے ہیں کہ روسی ناول میں تفریح کے لیے نہیں لکھے گئے تھے۔بلکہ یہ ناول دراصل انسان کے ضمیر اس کے سماج اور اس دور کے بڑے سوالوں سے ٹکراتے ہیں۔روسی ادب کی اہمیت اور مقام کے سلسلے میں ہیمنگوے کی رائے یہ تھی کہ "روسی ادب کے فلک بوس شاہپاروں کے با لمقابل انگریزی فکشن کے بہترین نمونوں کی حیثیت گھاس پھونس کی جھونپڑیوں سے زیادہ نہیں ہے۔”
ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی یہ کتاب اردو قاری کے لیے اس بڑی ادبی دنیا کا ایک سادہ تعارف ہے۔یہ بتاتی ہے کہ الیگزینڈر پشکن،گوگول،دستو ئیفسکی اور ٹالسٹائی کے کردار صرف روسی ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے دکھ بغاوت اور ان کے سوال ہر دور کے انسان کے سوالات ہیں۔یہ کتاب ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی تحریروں کا پہلا حصہ ہے۔اس کتاب کا دوسرا حصہ بہت جلد منظر عام پر آئے گا جس میں میکسم گورکی کے حالات زندگی اور ان کے فن پر تحاریر ہونگیں۔
یہ کتاب آپ گردوپیش پبلی کیشن ملتان رضی الدین رضی صاحب سے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں۔
03186780423
فیس بک کمینٹ

