Browsing: صحافت

چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔