مظفر آباد : پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا ہے۔جب کہ پولیس کے بقول اس کے چار اہلکاروں کو راولا کوٹ میں اغوا کر لیا گیا ۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہلکار ڈھڈیال شہر کی جانب مارچ کر رہے تھے کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا۔
پولیس اہلکار کے بقول مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں. پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص نے ہی آئی بی کے افسر پر فائرنگ کی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے چار اہلکاروں کو راولا کوٹ میں کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اغوا کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں کو اس وقت اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا جب وہ چھٹی سے واپس اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق کالعدم جماعت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں 80 فیصد دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔
اُن کے مطابق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے تاہم مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہر میں مارکیٹیں کھلی ہیں اور معمولات زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔
( بشکریہ بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

