تہران : ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔
تاہم، بی بی سی فارسی کے مطابق ان کے چوتھے بھائی یعنی ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے۔
امریکہ اور اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں حملہ کر کے علی خامنہ کو ہلاک کر دیا تھا۔
تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے میں کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سابق ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ دیکھ رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ تقریب میں کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوئے، کیونکہ ان کے خیال میں لوگ ’علی خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا کہ ’شاید یہ آنسو اصلی نہیں ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ’ایرانی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

