Browsing: ڈاکٹر علی شاذف

خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔