خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔
جمعرات, جولائی 16, 2026
تازہ خبریں:
- مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- ضمیر کو بہلانے کے لیے ماتھا رگڑنے والوں کی کہانی : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( دوسرا حصہ )
- مزارِ قائد تین سال سے عوام کے لیے بند : لینڈ مافیا کی نظریں : مظہر عباس کا کالم
- آبنائے ہرمز اور محصول کی وصولی کا سوال ، ٹرمپ کا متضاد طرز عمل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک
- فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ )
- بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کا قتل : لاشیں خان پور ، سیالکوٹ ، نارووال پہنچ گئیں
- ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
- آبنائے ہرمز کا اجارہ دار کون ۔۔ امریکا یا ایران ۔۔ فیصلہ کن جنگ کا انتظار : نصرت جاوید کا کالم
