وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
یہ خوبصورت شعر ریاض مجید کا ہے۔ عام طور پر شاعر کے نام کے بغیر ہی پوسٹ کیا جاتا ہے۔ بعض اشعار شاعر سے زیادہ مشہور ہو جاتے ہیں، لیکن شاعر کو اس کا حق بہرحال دینا چاہیے۔
کسی نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر یہ شعر پوسٹ کیا تو میرے ذہن میں آیا کہ دکھوں اور مایوسیوں سے بھری دنیا میں بعض اوقات حوصلہ دینے والے واقعی حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ یہ خستگی اور انتشار سے بھرے معاشرے کے لیے نہایت مایوس کن صورتحال ہو سکتی ہے۔
اگرچہ لاہور میں اس وقت بسنت منائی جا رہی ہے، جو بظاہر خوشی اور موسمِ بہار کی آمد کا اظہار ہے، لیکن میں نے یہ اظہار زیادہ تر سوشل میڈیا پر ہی دیکھا۔ یہ بھی دیکھا کہ بسنت کی چھٹیوں میں لوگ بڑی تعداد میں اپنے پیاروں سے ملنے آبائی شہروں کو روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ لاہور میں طبی کانفرنسوں کا مہینہ بھی ہے۔ رش کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آنے والے ڈاکٹر ایئرپورٹس پر مشکلات کا شکار ہیں۔
خیر، بات دکھوں کی ہو رہی تھی۔
میں چونکہ لاہور کے مضافاتی علاقے میں رہتا ہوں، اس لیے میں نے آسمان پر پتنگیں اڑتی نہیں دیکھیں۔ اسموگ سے آلودہ آسمان کی طرف دیکھا تو خیال آیا کہ کیا ہم واقعی بسنت منانے کے حقدار ہیں؟ کیا ہم اس آلودہ ماحول میں بہار کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ واقعی بہار کی آمد ہے؟ اگر ہے، تو ہمیں بہار کہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہی؟ کیا بہار آ چکی ہے اور چھپی ہوئی ہے؟ یا کیا بہار ہم سے اور ہمارے ماحول سے خوفزدہ ہے؟ ہم آخر کس منہ سے خوفزدہ بہار کا استقبال کر رہے ہیں؟
میں نے پتنگیں خریدتے لوگ تو کم ہی دیکھے، لیکن موٹر سائیکلوں پر ڈور کی کاٹ سے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈ لگواتے بہت سے افراد کو دیکھا۔ ہم سے بہار ہی نہیں، بلکہ ہم خود بھی ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں سے خوفزدہ ہیں۔ ہم اپنے جشن مناتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم کسی کے جنازے کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیا یہ ہماری بےحسی ہے یا ہماری لاعلمی؟ یا ہم محسوس کرنا ہی نہیں چاہتے؟ احساس ہمدردی کو جنم دیتا ہے۔ ہمدردی اور محبت ہمیں انسانیت سکھاتی ہیں۔ انسانیت ہمیں علم و آگہی دیتی ہے، اور علم ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔
کیا ہم علم حاصل نہیں کرنا چاہتے؟ یا صرف اتنا ہی علم چاہتے ہیں جو ہمیں ذاتی طور پر محفوظ رکھے؟ کیا یہ ایسا ہی نہیں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لیتا ہے اور خود کو محفوظ تصور کرتا ہے؟
اس موقع پر جون ایلیا کا شعر یاد آتا ہے:
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
سوچنے والے افراد معاشرے میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس قدر افراتفری ہے کہ کسی کے پاس سوچنے اور سمجھنے کا وقت نہیں۔ یہ fight, fright اور flight کی صورتحال ہے، جس میں صرف ہمارے دفاعی ریفلیکسز سرگرم ہوتے ہیں۔ یہ ریفلیکسز دماغ کے سوچنے والے حصے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اس سے کٹے ہوتے ہیں۔ اب شاید یہی ریفلیکسز ہماری زندگیوں کا محور بن چکے ہیں۔
میں نے شروع میں جو شعر لکھا، وہ اسی صورتحال کو بیان کرتا ہے: کہ حوصلہ دینے والے، پُرامید لوگ بھی اب حوصلہ ہار چکے ہیں۔ یہ بےبسی کی آخری منزل ہے۔ کیا یہ محض ایک جذباتی کیفیت ہے جو گزر جائے گی؟ یا واقعی ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں؟
میں لوگوں سے ان کے حقوق کی بات کرتا ہوں تو وہ حیران ہوتے ہیں، کیونکہ حقوق کی باتیں تو ایک ایسے مربوط معاشرے میں کی جاتی ہیں جہاں آئین اور قانون کی بالادستی ہو۔ ایسے معاشرے میں نہیں جہاں طاقتور افراد قانون کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوں، جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین ہوں۔
اور جہاں طاقتور کو قانون سمجھایا جائے تو وہ اسے اپنی تضحیک سمجھتا ہے اور ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتا ہے:
تمہاری جرات ہی کیسے ہوئی؟
تم جانتے نہیں میں کس عہدے پر ہوں؟
تم نے اپنے معمولی اصول کی خاطر میری بےعزتی کی؟
میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں کہ تمہارا مستقبل خطرے میں ہے۔
پہلے بھی تمہارے بارے میں ایسی شکایتیں ملی ہیں۔
بہتر ہوگا کہ تم خود کو بدلو۔
اس موقع پر ایک بار پھر جون ایلیا یاد آ جاتے ہیں:
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا، چلتے ہیں
پھر وہ لوگ جو اصول، قانون اور آئین کی بات کرتے ہیں، بےحوصلہ پڑ جاتے ہیں۔ بعد میں ان سے کہا جاتا ہے کہ اصول اور قانون کی بات کرو تاکہ لوگوں پر یہ تاثر قائم رہے کہ ہم اصول پسند لوگ ہیں، تاکہ لوگ ہم سے ڈرنے لگیں۔ کیونکہ وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے اصول اور قوانین کم از کم ان کے لیے ہرگز نہیں ہوتے۔
اب یہ بات میں بھی جانتا ہوں۔
فیس بک کمینٹ

