خیال ایک چلبلا پرندہ ہے۔ کب اڑان بھر کے کسی پیڑ کی پھننگ پر جا بیٹھے اور کب کسی گھنی جھاڑی میں یوں اوجھل ہو جائے کہ ڈھونڈنے پر نشان تک نہ ملے۔ دو بظاہر مختلف سانحوں پر کالم لکھنا ہے۔ کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے خود کش حملے میں دو درجن سے زیادہ قیمتی جانوں کا زیاں قومی اخبارات میں شہ سرخی نہیں بن سکا۔ ادھر کراچی میں عدالت سے میاں بیوی قرار پانے والے نوجوان جوڑے کو ’پسند کی شادی‘ کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔ پریشان خیالی کا مگر یہ عالم ہے کہ پردہ دماغ پر تین مرحوم بزرگوں کی پاک نفس شبیہیں پرچھائیں کی مانند لرز رہی ہیں۔ زیڈ اے سلہری، رئیس امروہوی اور قدرت اللہ شہاب۔
سلہری مرحوم کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ایک کالم کی تنگنائے کافی نہیں۔ رئیس امروہوی نے یکم جنوری 1959 ء کو اسی ادارتی صفحے پر ایوب خانی مارشل لا کی برکات بیان کرتے ہوئے ایک کالم ایسا قاطع برہان لکھا کہ عمر بھر کی خامہ فرسائی اس کے مقابل ہیچ ٹھہری۔ قدرت اللہ شہاب نے رئیس امروہوی والے حادثہ فاجعہ ہی کے بارے میں بایں دانش و معرفت روحانی لکھا۔ ’دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ نیا صدر جو نظام لانا چاہتا ہے، شاید وہی ملک کے لئے سود مند ثابت ہو۔ یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ آئی کہ یہ نظام ریت کا گھروندا ہے جو ایوب خان کی صدارت ختم ہوتے ہی دھڑام سے گر جائے گا۔‘
ان تین میں سے ایک صاحب سلوک، دوسرا افسر شاہانہ اور تیسرا دنیائے صحافت کا راہ ساز۔ مثلث کے تینوں نقطے قائم بالذات مگر کوئی مربوط خاکہ نہیں ابھرتا۔ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ روز ایک کالم ایسا بصیرت افروز نظر سے گزرا کہ ناطقہ سربہ گریباں ہے۔ لکھنے والے نے کیا غضب ڈھایا ہے کہ صاحب کے کف دست پہ رکھی چکنی ڈلی کو فراز پریزاد سے جا بھڑایا ہے۔ خود فریبی ایک نفسیاتی کیفیت ہے جسے لوگ اپنی انا کی حفاظت، تکلیف دہ حقیقتوں سے فرار یا داخلی خلجان پر قابو پانے کے لئے بروئے کار لاتے ہیں۔
قلم کے بادشاہ کا فرمان دیروز ہے کہ ’بلاشبہ 2025 ء اور 2026 ء پاکستان کے لئے دنیا میں عزت اور احترام کے لحاظ سے بہترین رہے۔ ہم نے وہ کچھ ہوتے دیکھا جو ہم نے خود بھی نہ کبھی سوچا تھا، نہ امید تھی۔ پاکستان کی اس عزت کے لئے وسیلہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جوڑی اور پاک فوج بنے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پاکستان کی کوئی امریکی صدر اس طرح پبلسٹی کرے گا؟‘
ارے بھائی، آپ پختہ کار ہیں۔ زی جنریشن نہیں ہیں جس کے لیے ہر واقعہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ فروری 1952 ابھی کل کی بات ہے۔ ایوب خان امریکی قونصل جنرل ریلے گبسن سے راز و نیاز کرتے تھے کہ فوج سیاست دانوں کو ملک تباہ نہیں کرنے دے گی۔ اگست 1958 ءمیں مارشل لا کی آمد آمد تھی۔ ایوب خان ہفتوں واشنگٹن میں بیٹھ رہے۔ مئی 1961 ءمیں نائب صدر لنڈن جانسن نے دورہ پاکستان کے بعد ایوب خان کو ایشیا کا بہترین سربراہ مملکت قرار دیا۔ جولائی 1961 ء میں ایوب خان نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ جانسن ایوب کو اپنی جاگیر پر لے گئے۔ کینیڈی نے ایوب کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے باہر ماؤنٹ ورنن پر سرکاری عشائیے میں انہیں ’اسٹرٹیجک اتحادی‘ کا خطاب دیا۔ مارچ 1962 میں ایوب خان جیکولین کینیڈی کے ساتھ ورجینیا میں گھڑ سواری کرتے رہے۔ دسمبر 1965 میں ایوب خان امریکا گئے تو صدر جانسن ایوب خان ہی نہیں، پاکستانی سفیر اور سیکرٹری خارجہ کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے۔
ہنری کسنجر نے 28 اپریل 1971 ء کو نکسن کے نام مراسلے میں یحییٰ خان کو چین سے روابط کے لیے کلیدی کردار قرار دیا۔ مئی 1971 ء کو صدر نکسن نے ایم ایم احمد اور آغا ہلالی سے ملاقات میں یحییٰ خان کو اچھا دوست قرار دیا۔ اسی برس جولائی میں یحییٰ خان نے ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ چین کا بندوبست کیا۔ بھٹو صاحب نکسن سے ملاقات کر کے پاکستان میں اقتدار سنبھالنے آئے تھے۔ 1982 ء میں صدر ریگن نے پاکستان کو پوری انسانیت کے لئے صف اول کی قوم قرار دیا۔ اپریل 1988 ءکے جنیوا معاہدے میں پاکستان کا کلیدی کردار تھا۔ 2020 ء میں دوحہ معاہدہ پاکستان کے توسط سے ہوا۔ جارج بش پرویز مشرف کو ’قریبی دوست‘ کہتے تھے۔ البتہ باراک اوباما نے اکتوبر 2009 ءمیں کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کو پانچ برس میں تعلیم اور صحت کے لئے ساڑھے سات ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تو اس پر طوفان برپا کرنے والوں کے نام نامعلوم ہیں۔ اکتوبر 2013 ءاور پھر اکتوبر 2015 میں باراک اوباما نے وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان میں جمہوری انتقال اقتدار پر مبارکباد دی۔
صدر ٹرمپ کی کیا پوچھتے ہیں۔ 2018 میں نئے سال کا آغاز پاکستان کے خلاف ٹویٹ میں ’جھوٹ اور دھوکہ دہی‘ کے الزامات سے کیا۔ اسی برس نومبر میں پاکستان پر اربوں امریکی ڈالر کھانے کا الزام لگا کر امداد بند کر دی۔ پاکستان میں بارہ عام انتخابات میں سے 2018 ءکے انتخابات کی دھاندلی تسلیم کرنا معنی خیز ہے۔ تحریک انصاف کی شدت پسندی پر اظہار افسوس کرنے والوں نے 2012 ء سے 2022 ء تک ایسی بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا تصور اسکندر مرزا کی دین ہے۔ ہمارا ملک چار مارشل لا بھگت چکا۔ ہائبرڈ نظام کا آئین میں کہیں ذکر نہیں۔ ان سب اصطلاحات کو یکساں سمجھنے والے سرے سے قومی ریاست کے تقاضے ہی نہیں سمجھتے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی دنیا میں پانچویں اور معیشت 40 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقی میں پاکستان 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ 1574 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان 145 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔ 2001 سے 2018 ء تک پاکستان میں غربت کی شرح 64 فیصد سے کم ہو کر صرف 22 فیصد رہ گئی تھی جو اب 45 فیصد ہو چکی۔ سات کروڑ شہری غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں۔ 2018 ء میں معیشت کی شرح نمو 5.8 % تھی۔ حالیہ برسوں میں معاشی ترقی کی اوسط شرح 0.7 فیصد رہی ہے۔ اگر اس ترقی معکوس کی نشاندہی کرنے پر کسی کو افسوس ہے تو مریض عشق پر رحمت خدا کی۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )
فیس بک کمینٹ

