ایک بہت خوب صورت اور محبت کرنے والا انسان ایسے رخصت ہوا کہ کسی کو یقین کرنے کی بھی مہلت نہ دی ۔۔ ندیم ملک صاحب سے محبت بھرا تعلق کوئی چند برسوں پر تو محیط نہیں تھا ۔۔ ہم مظفر گڑھ جاتے تو وہاں ان سے ملاقات ہو جاتی ، تین برس قبل کوٹ ادو گئے تو وہاں بھی والہانہ استقبال کے لیے موجود تھے ۔۔ ملتان جب بھی آتے کوئی ملاقات کی سبیل نکال لیتے تھے ۔۔وہ تنہا ایک انجمن اور تنہا ادارہ تھے ۔۔ ایک جنون تھا اور لگن تھی کام کرنے کی مظفر گڑھ ٹی ہاؤس بنایا تو ایسا شاندار کہ جو بھی گیا اس نے کہا کمال کر دیا ۔۔ کتابوں پر تبصرے کرتے تھے ، آڈیو ، ویڈیو اور تحریر میں بھی ۔۔ آخری رابطہ ان سے گزشتہ برس اگست میں ہوا جب انہوں نے مظفر گڑھ میں کتاب میلہ کرایا تھا ۔۔ رات بھر کام کرتے اور پھر صبح سویرے متحرک ہو جاتے ۔۔ آج دن کا آغاز ندیم بھائی کی رخصتی کی خبر سے ہوا ۔۔ نہیں یار یقین کرنے کی مہلت تو دیتے ۔۔۔ ندیم بھائی آپ ندیم الرحمان۔۔ رحم کرنے والے خدا کے دوست کہلاتے تھے سو خدا کے پاس چلے گئے ۔۔ ہمارا زور کہاں چلتا ہے ۔۔
جمعہ, جولائی 17, 2026
تازہ خبریں:
- ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان کے حاجی صاحب اور اداکارہ کے بولڈ لباس کا تنازع : وجاہت مسعود کا کالم
- ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور
- فیفا ورلڈ کپ، آخری 5 منٹ میں بازی پلٹ گئی، ارجنٹائن نے انگلینڈ کا 60 سالہ خواب چکنا چور کر دیا
- مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- ضمیر کو بہلانے کے لیے ماتھا رگڑنے والوں کی کہانی : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( دوسرا حصہ )
- مزارِ قائد تین سال سے عوام کے لیے بند : لینڈ مافیا کی نظریں : مظہر عباس کا کالم
- آبنائے ہرمز اور محصول کی وصولی کا سوال ، ٹرمپ کا متضاد طرز عمل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک

