Browsing: ڈاکٹر علی شاذف

دکھ ہمیں صدمے تک لے جاتا ہے۔ صدمے کا ذکر میں پہلے بھی کسی تحریر میں کر چکا ہوں۔ صدمہ اپنے مراحل مکمل کرتا ہے۔ دکھ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے۔ صدمے سے سنبھلنے میں ہر انسان اپنا اپنا وقت لیتا ہے۔ کچھ دکھ مستقل ہوتے ہیں، مثلاً افلاس کا دکھ، کسی لاعلاج بیماری کا دکھ، یا کسی ایسی بیماری کا دکھ جس کا علاج تو موجود ہے لیکن غربت کے سبب بیمار کو میسر نہیں ہے۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے اداروں کے ممالک اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی تکمیل کے لیے غریب ملکوں پر حملے کرتے ہیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے ادارے اپنے ہی ملک کے ہاتھوں تباہ شدہ انہی ممالک کے سرطان زدہ بچوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں ان اداروں سے وابستہ افراد پر کوئی الزام نہیں رکھتا ، میں صرف ان اندوہناک تضادات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں مارکسزم کے سوا دنیا کا کوئی مذہبی، اخلاقی، سماجی یا سیاسی نظریہ اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔

مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ سائنسی بنیادوں پر سوچنے کا عادی نہیں ہے۔ اگرچہ ہم ان مریضوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں اور دل کھول کر عطیات دیتے ہیں، لیکن یہ عطیات زیادہ تر جذباتی یا روحانی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں، نہ کہ سائنسی بنیادوں پر۔

وہ سب دانا ہیں، لیکن کسی بااثر آدمی کے زیرِاثر نہیں۔ وہاں کوئی بااثر آدمی اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے اپنی مرضی نہیں کرتا، بلکہ دانا آدمیوں کے مشوروں پر چلتا ہے اور اسی طرح بڑے آدمی اور سب سے بڑے آدمی بھی

ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔

ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔