رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے۔ یوں تو ہم ایک مذہبی ریاست کے باشندے ہونے کے ناتے عمومی طور پر مذہبی سمجھے جاتے ہیں، لیکن محرم اور رمضان دو ایسے مہینے ہیں جن میں ہمارے اندر نہ صرف خود کو مذہبی طور پر بہتر بنانے بلکہ دوسروں کو بھی اپنی طرح کا مذہبی انسان بنانے کی انگڑائی بہت زور سے ٹوٹتی ہے۔
پاکستان میں مذہبی رویّوں پر تنقیدی گفتگو کم ہی کی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری عدم برداشت ہے۔ یہ عدم برداشت صرف مذہبی افراد تک محدود نہیں بلکہ لبرل اور غیر مذہبی افراد بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجوہات یقیناً سیاسی، معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی ہیں، جن پر طویل بحث کی جا سکتی ہے۔ تاہم میرا آج کا موضوع یہ سب نہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ ہم مذہب پر جتنا ممکن ہو سکے بات کریں، کیونکہ یہ ہماری زندگی کا محور ہے۔ اس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔ اگر اس پر سوالات اٹھتے ہیں تو اٹھنے چاہییں، اور مذہبی رویّوں پر تنقید کو خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہیے۔یہ ایک نہایت حساس موضوع ہے، اسی لیے کم چھیڑا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض افراد نے ان موضوعات کو چھیڑا، مگر انہیں قید کیا گیا اور نشانِ عبرت بنا کر اظہارِ رائے کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
مشال خان پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں بےدردی سے ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا، اور یوں ایک اور مثال قائم کی گئی کہ اس ملک میں سوال کرنے پر مکمل پابندی ہے۔ اگر ملحد اور غیر مذہبی لوگوں کے بس میں ہو تو وہ ڈ اڑھی والے مذہبی افراد کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں، کیونکہ وہ بھی اسی انتہاپسند مٹی میں پیدا ہوئے ہیں۔ مگر ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں، کیونکہ اس وقت ریاست کو مذہب کی ضرورت ہے اور وہ اسی طبقے کے پیچھے کھڑی ہے۔
میں ابتدا میں انگڑائی ٹوٹنے کی بات کر رہا تھا۔ بانیٔ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کو اگرچہ ٹوپی اور اچکن پہنا کر قدامت پسند یا مذہبی ثابت کرنے کی بہت کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ نصابی کتب اسلامیات، مطالعۂ پاکستان اور دیگر مضامین میں بچوں کے سامنے ان کا ایک مذہبی امیج پیش کیا گیا، جسے بڑے ہو کر مٹانا بہت سے بچوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
لیکن یہ تاریخی حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ وہ آزاد خیال تھے، انگریزی سوٹ پہنتے تھے، ان کی ڈ اڑھی نہیں تھی (جو علما کے نزدیک واجب سمجھی جاتی ہے)۔ ان کی نماز اور روزے کے بارے میں بھی کوئی مستند شواہد موجود نہیں کہ وہ ان کے کتنے پابند تھے۔ ان کی شخصیت کے دوسرے پہلوؤں، مثلاً دیانت داری اور اصول پسندی، پر البتہ سب متفق ہیں۔
یہاں میرے قارئین مجھ سے سوال کریں گے کہ آخر مجھے قائداعظم کی مذہبی زندگی میں اتنی دل چسپی کیوں ہے؟ یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے پاکستان اس لیے بنایا کہ وہ سمجھتے تھے کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان آزاد نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ کام ایک سیاسی تحریک کے ذریعے کیا۔ وہ کوئی مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک سیاسی قائد تھے۔ ان کی قیادت میں لبرل، قدامت پسند، مذہبی اور غیر مذہبی سبھی افراد شامل تھے۔
اس وقت ان کے پیروکاروں میں سے کسی نے ان کی مذہبی زندگی پر سوال نہیں اٹھایا۔ البتہ ان کے مخالف علما نے ضرور انہیں ”کافرِ اعظم“ جیسے القابات سے نوازا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں آج جناح صاحب کی مذہبی زندگی پر بحث کرنی چاہیے؟ آپ سب اس بات پر متفق ہوں گے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اور پھر وہ ہمارے مذہبی نہیں بلکہ سیاسی قائداعظم تھے۔ ان کے مذہب پر تحقیق کرنا یا یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ آیا وہ شراب نوشی کرتے تھے یا نہیں، انتہائی غیر اخلاقی ہے۔ ہم سب اس پر یقیناً متفق ہیں۔
لیکن کیا ہم اخلاق کے اسی اصول کو خود پر لاگو کرنے کے لیے بھی تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی اولاد، بہن بھائیوں، ساتھ کام کرنے والوں، دوستوں اور رشتہ داروں پر اپنے مذہبی عقائد مسلط نہیں کرتے؟ اگر قائداعظم کے مذہب پر سوال اٹھانا غیر اخلاقی ہے تو اپنے شوہر یا بیوی کے مذہب پر سوال اٹھانا کیسے جائز ہو گیا؟
ہم قائداعظم کے مذہب کو تو ان کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں مداخلت کا حق ہر وقت اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہم اسی بنیاد پر ایک دوسرے سے رشتے توڑ لیتے ہیں، منہ موڑ لیتے ہیں۔ آخر وہ معاملات، جو ہمارے اور ہمارے خدا کے درمیان بے حد ذاتی نوعیت کے ہیں، ہمارے انسانی تعلقات کو کیوں متاثر کرتے ہیں؟
یہ سوال مجھے اس لیے تنگ کر رہا ہے کہ مجھ سے اور آپ سے یہ اور اسی نوعیت کے سوالات کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ ماہِ رمضان ہے۔ اس مہینے ہماری سوئی ہوئی مسلمانیت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ مسلمانیت جس میں ہم اپنے من پسند ناجائز یا حرام کاموں پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں، لیکن دوسروں کے قابلِ اعتراض اعمال پر ہماری نظر ہر وقت تیز رہتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

