البرٹ آئن اسٹائن ایک عظیم سائنس دان ہی نہیں بلکہ مفکر بھی تھے۔ ان کا نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) طبعیات کی دنیا میں انقلاب کا باعث بنا۔ ان کے سائنسی نظریات پر بہت سی فکشن کہانیاں لکھی گئیں اور فلمیں تخلیق کی گئیں۔ ان میں 1985 کی فلم Back to the Future ہم نے اپنے بچپن میں دیکھی تھی۔ ٹائم مشین کا تصور ہمارے لیے بہت حیران کن اور دلکش تھا۔
ہم سب اگرچہ ہمیشہ اپنے حال میں رہتے ہیں، لیکن اپنے ماضی اور مستقبل کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ اپنے ماضی کے بارے میں تو ہم جانتے ہی ہیں، مگر مستقبل سے ہمیشہ نابلد رہتے ہیں۔ مستقبل کو جاننے کی دلچسپی ہمیں بعض اوقات نجومیوں تک لے جاتی ہے، جو ستاروں کے علم کی بنیاد پر ہمارے بارے میں پیش گوئیاں کرتے ہیں۔
بعض اوقات ہمارا دل کرتا ہے کہ کاش ہم اپنے ماضی میں واپس جا سکیں اور اپنی ان غلطیوں کو درست کر دیں جو ہمارے مستقبل پر منفی اثرانداز ہوئیں۔ کبھی ہم چاہتے ہیں کہ اپنے ان پیاروں سے جا کر ملیں جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، یا ان محبوباؤں سے جو ہماری زندگی سے نکل کر کسی اور کی ہمسفر بن گئیں۔ اس موقع پر مجھے اپنا ہی ایک شعر یاد آ جاتا ہے:
کوئی لوٹا دے اگر مجھ کو گزارے ہوئے دن
میں اسے پھر سے کسی کا نہیں ہونے دوں گا
اگر ہم دور خلا میں چلے جائیں اور تین جہتوں میں اپنی زندگی کو دیکھیں تو ہمیں پتا چلے گا کہ وقت نے ہمیں ایک نہیں بلکہ کئی انسانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک ہی انسان کے اندر موجود یہ کئی انسان بعض اوقات ایک دوسرے سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔
کبھی ہم اپنے بچپن کے انسان کو دیکھیں تو شاید وہ ہمیں اجنبی محسوس ہو۔ وہ بچہ جو خودمختار نہیں تھا اور جس کی زندگی دوسروں کے رحم و کرم پر تھی۔ ان لوگوں میں اس کے والدین، اساتذہ، بڑے بہن بھائی اور دیگر افراد شامل تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دنوں میں اسے بڑوں سے بہت محبت ملی، لیکن بعض دنوں میں اس کے ساتھ برا سلوک بھی ہوا جس کے اس کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ماضی کے وہ برے دن اس بچے کی زندگی سے نکال سکیں۔
ہم خلا سے ماضی میں ایک نوجوان کو دیکھتے ہیں جو اپنے گھر کے ناخوشگوار ماحول کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ یا وہ توانا، صحت مند اور حوصلہ مند ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ مستقبل میں کسی کی بےوفائی یا ناراضی اس کے حوصلے پست کر کے اسے ناکامی کے احساس میں مبتلا کر دے گی۔ یا وہ منشیات کا شکار ہے اور اپنے ماضی، حال اور مستقبل سے بےنیاز ہو چکا ہے۔ یا وہ جذباتی طور پر بےحس ہو گیا ہے اور اپنے چاہنے والوں کی اس سے وابستہ توقعات اور خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم ماضی میں جا کر اس نوجوان کی مدد کر سکیں، کیونکہ شاید ہمارے سوا کوئی اسے پوری طرح نہ سمجھ سکے۔
پھر ہم ایک ایسے نوجوان کو دیکھتے ہیں جو عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ اسے اپنے کسی سینئر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ یا وہ کسی خاتون کی محبت میں مبتلا ہو کر شادی کرنا چاہتا ہے، لیکن طبقاتی فرق اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کبھی ہم اسے نفسیاتی الجھنوں کے باعث اضطراب اور افسردگی میں مبتلا دیکھتے ہیں، اور کبھی ایک نوآموز کاروباری کے طور پر، جو مستقبل میں کسی فراڈ کا شکار ہو کر اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھے گا۔
پھر ہم خود کو ایک شادی شدہ انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ پندرہ سال بعد بےروزگاری کے دنوں میں اس کی بیوی اسے چھوڑ دے گی۔ یا ہم اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے ہیں جسے اپنی بیوی کا گھر سے باہر کام کرنا اور خودمختار ہونا پسند نہیں۔ کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے والدین کو بےسہارا چھوڑ دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس شادی شدہ شخص کے مسائل حل کر سکیں، کیونکہ ہم ہی جانتے ہیں کہ یہ مسائل کیسے حل کیے جا سکتے ہیں۔
پھر ہم اپنے حال کو دیکھتے ہیں۔ تین جہتی نظر سے اپنے حال کو دیکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اسی زاویۂ نظر سے ہم خود کو درست کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے ہم اپنے حال پر مکمل اختیار نہ رکھتے ہوں، لیکن کم از کم خود کو سمجھ کر بہترین انداز میں اپنی مدد ضرور کر سکتے ہیں۔
پھر ہم اپنے مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہمارے بچے بڑے ہو چکے ہیں اور خودمختار ہیں۔ وہ ہم سے ناراض ہیں کہ ہم نے ان کے بچپن میں ان کی مدد نہیں کی بلکہ انہیں نفسیاتی طور پر مجروح کیا، ورنہ وہ بہت آگے نکل سکتے تھے۔ یا ہم دادا یا دادی بن چکے ہیں اور اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کے سب رنج و غم بھول جاتے ہیں۔ کبھی ہم خود کو بےیار و مددگار پاتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے بڑھاپے کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا۔
ہم اپنے تین جہتی فریم آف ریفرنس سے اپنی زندگی کا مکمل جائزہ لے سکتے ہیں۔ دورِ حاضر میں یہ تصور عملی طور پر شاید ممکن نہ ہو اور فلموں تک ہی محدود رہے، لیکن ہم تخیلاتی طور پر اس زاویۂ نظر کو استعمال کر کے اپنی زندگی کا گہرا جائزہ ضرور لے سکتے ہیں۔
ہمارے لیے تین جہتی انداز میں خود کو دیکھنا بہت اہم ہے۔ اس کے مطابق ہم صرف ایک نہیں بلکہ زندگی کے مختلف مراحل پر موجود کئی انسان ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے ان تمام انسانوں سے محبت کرنی چاہیے، کیونکہ ہم سے بہتر انہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ یہ ہم ہی ہیں جو ان سب کو بہترین مدد فراہم کر کے انہیں اپنے اور دوسروں کے لیے مفید اور کارآمد انسان بنا سکتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
فیس بک کمینٹ

