وہ اس مہینے پچاس برس کا ہو گیا۔ یہ اس کی اصل اور مکمل طور پر درست عمر ہے۔ اس کے والد نے کاغذوں میں اس کی عمر کم لکھوائی تھی۔ انہوں نے شاید اس کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ سوچا ہو گا۔ لیکن اسے شاید کبھی اس سے کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوا۔ ہاں، یہ ہوا کہ چالیس کے بعد اس نے دوسروں کو اپنی کاغذی عمر بتانا شروع کر دی۔ شاید اسے بڑھتی ہوئی عمر سے کوئی کمپلیکس ہو گیا۔
لیکن اس نے کبھی اپنے سفید بال سیاہ نہیں کیے۔ شاید اس کے بال کبھی اتنے سفید ہوئے بھی نہیں، اور اب بھی سیاہ بالوں کی تعداد شاید زیادہ ہے۔ اس کی عمر کے اکثر لوگ بال کلر کرتے ہیں۔ لیکن وہ نارمل ہوتے ہیں۔ وہ خود اگر ایسا کرتا تو یقیناً کسی نفسیاتی مسئلے کے زیرِ اثر کرتا۔
اسے خود کو نفسیاتی مسائل کا شکار تسلیم کرنے میں کبھی کوئی قباحت نہیں ہوئی۔ لیکن چونکہ معاشرے میں نفسیاتی امراض کو اسٹگما سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ بدنام ہو گیا۔ پہلے وہ کھل کر ہر بات کا اظہار کرتا تھا، اب وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ اب اس کے ہر اظہار کو اسٹگماٹائز کیا جاتا ہے۔ یعنی ضرور اس خوشی، غمی، غصے، محبت یا نفرت کے پیچھے اس کا کوئی نفسیاتی مسئلہ کارفرما ہو گا۔
وہ خود بھی اپنا نفسیاتی تجزیہ کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے اظہار میں بے حد محتاط ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود اس کے اظہار کو لوگ (اور وہ خود بھی) ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لکھ کر اظہار کرنا اس کے لیے سب سے آسان ہو گیا ہے۔ لیکن وہ لکھنے میں بھی بہت محتاط ہے۔
لکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ تحریریں شائع ہو جائیں تو لوگ انہیں اس کی تخلیقات سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ خود ان تخلیقات کو بھی ہمیشہ شک کی نظر سے ہی دیکھتا ہے۔
تو بات اس کی گولڈن جوبلی سالگرہ کی ہو رہی تھی۔ اس نے کبھی اپنی سالگرہ سیلیبریٹ نہیں کی۔ اس کے بچپن میں سالگرہیں منانے کا زیادہ رواج بھی نہیں تھا۔ اکثر اس کی سالگرہ آتی اور خاموشی سے گزر جاتی۔
لڑکپن اور نوجوانی میں اس کے کچھ خواتین سے افیئر ہوئے تو اس نے اپنی سالگرہوں کی کچھ اہمیت محسوس کرنا شروع کی۔ محبت میں سالگرہ جیسے مواقع یاد رکھے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو تحائف دیے جاتے ہیں۔
اسے زیادہ تر خواتین نے کارڈز پر پیغامات ہی لکھ کر دیے۔ اس کی نوجوانی میں شاعری کی کتابیں تحفے میں دینے کا بھی رواج تھا، جو اسے خوبصورت لگتا تھا۔ ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خوشبوئیں اسے میسر ہوتی ہیں۔
لیکن کچھ خوشبوئیں اب دستیاب نہیں ہیں، اس لیے وہ ان سے جڑے واقعات بھی پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا۔ مگر وہ کھوئی ہوئی خوشبو کو یاد کرنے کی کوشش کرے تو اکثر اس خوشبو سے جڑا واقعہ بھی یاد آ جاتا ہے۔ جیسے معطر کتاب کے تحفے سے جڑی محبت۔
پچاسویں سالگرہ پر اسے تحائف تو کم ہی ملے، لیکن پیغامات بڑی تعداد میں موصول ہوئے۔ اسے خوشی اس بات کی ہوئی کہ اکثر پیغامات بہت خلوص سے لکھے گئے تھے۔
کیا واقعی ایسا ہوا تھا، یا اسے ایسا صرف محسوس ہوا؟ بعض اوقات ہمارا ذہن وہی محسوس کرتا ہے جو ہم محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال، وہ اس بار اپنی سالگرہ کے پیغامات پڑھ کر واقعی بہت خوش ہوا تھا۔
اب بھی نوجوان خواتین اسے پیغامات بھیجتی ہیں، لیکن ان میں محبت کی خوشبو نہیں بلکہ فادرلی فگر کے احترام کی کچھ ناخوشگوار مہک شامل ہوتی ہے۔ وہ اس مہک کو نظر انداز کر دیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ اس کی یادداشت کا حصہ نہ بنے۔
اس کی پچاسویں سالگرہ اس وقت اور بھی خاص بن گئی جب اسے اس کی محبوب بیوی کی طرف سے طلاق کے معاہدے کی درخواست کا پیغام ملا۔ یہ اس کے لیے ایک شدید ذہنی صدمہ تھا۔ لیکن اس نے ایسا ظاہر نہیں کیا۔
اس نے ایسا اس لیے ظاہر نہیں کیا کہ اس کی بیوی، وہ خود، اور ان دونوں سے جڑے لوگ اس صدمے کے اظہار کو اس کے نفسیاتی مسائل سے جوڑ دیں گے۔ اس لیے اس نے اپنا ردعمل تحریر کر دیا، تاکہ لوگ اسے محض اس کی ایک ادبی تخلیق سمجھ کر پڑھیں اور انجوائے کریں، اور وہ خود بھی لوگوں کی پذیرائی میں اپنا ذہنی صدمہ ڈھانپ دے۔
وہ ذہنی صدمے کے مراحل سے واقف ہے۔ وہ ان مراحل سے واقف ہی نہیں بلکہ ان کا عادی ہے۔ وہ ایک بار پھر چپ چاپ ان مراحل سے گزرے گا اور ان کا اظہار تخلیقی تحریروں کی صورت میں کرتا رہے گا۔
فیس بک کمینٹ

