باہر بارش ہو رہی ہے۔ ہمیشہ کی طرح ذرا سا جھکڑ چلنے سے بجلی چلی گئی ہے۔ ایسا ہی ایک طوفان محبت کرنے والوں کی زندگی میں بھی آتا ہے۔ جب ان کی محبت برستی ہے اور ان کے من کی مٹی گیلی ہوتی ہے تو اکثر ان کے مقدر کی بجلی چلی جاتی ہے۔ شاید یہی دنیا کا اصول ہے۔
ہندوستان مذہب کے نام پر تقسیم ہوا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ہوا۔ آج کے بھارت میں اگرچہ مودی جیسے ہندو انتہاپسند کی حکومت ہے، لیکن وہ اب بھی ایک حد تک سیکولر معاشرہ ہے۔ وہاں ہندو اور مسلمان آپس میں محبت کی بنیاد پر شادیاں کرتے ہیں اور بچے پیدا کرتے ہیں۔ بہت سے جوڑے شادی کے بعد اپنا مذہب تبدیل نہیں کرتے، لیکن کچھ افراد ایک بنیادی مذہبی وجہ کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔
وہ وجہ یہ ہے کہ مسلمان مرد کسی غیر اہلِ کتاب عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔ ہندوؤں کے پاس ایک مذہبی کتاب ہے جسے گیتا کہا جاتا ہے، لیکن وہ ان چار آسمانی کتابوں میں شامل نہیں جن پر ایمان لائے بغیر مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ اور مسلمان عورت شاید کسی بھی غیر مسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی، چاہے وہ اہلِ کتاب ہو یا غیر اہلِ کتاب۔
ہندوستان کی تاریخ کے سب سے طاقتور مغل بادشاہ، جلال الدین محمد اکبر نے ایک ہندو راجہ بھارمل کی بیٹی جودھا بائی سے شادی کی تھی۔ اگرچہ وہ مریم الزمانی کے نام سے مشہور ہوئیں، لیکن انہوں نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔ اکبر ایک وسیع النظر اور نسبتاً سیکولر حکمران تھے۔ انہوں نے مختلف مذاہب کو قریب لانے کے لیے دینِ الٰہی کی بنیاد رکھی۔ تاہم دینِ الٰہی عوامی مذہب نہیں تھا بلکہ شاہی حلقوں تک محدود رہا۔ اس کے ارکان میں اکبر کے قریبی مشیر شامل تھے، جن میں بیربل واحد ہندو پیروکار تھے۔
اکبر چونکہ ایک طاقتور بادشاہ تھے، اس لیے وہ ہندو عورت سے اس کا مذہب بدلے بغیر شادی کر سکتے تھے اور اس کے بطن سے ایک وارث بھی پیدا کر سکتے تھے۔ لیکن عام ہندوستانی کے لیے مختلف مذاہب کے درمیان شادی کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اس موضوع پر بے شمار المیہ محبت کی کہانیاں لکھی جا چکی ہیں اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔
ہندوستان کا عام آدمی ہمیشہ ملا اور پنڈت کے زیرِ اثر رہا ہے۔ وہ اپنی مرضی کی آزاد مذہبی سوچ نہ رکھتا ہے اور نہ رکھ سکتا ہے۔ اس کا خدا اور بھگوان وہی ہوتا ہے جس کا تصور اسے مذہبی رہنما دیتے ہیں۔ اہلِ مغرب ایک صدی پہلے اس مذہبی جکڑ بندی سے بڑی حد تک نکل آئے، لیکن پاک و ہند میں یہ عمل ابھی ادھورا ہے۔
ہم چونکہ مذہبی تعصب کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے، اس لیے یہ تعصب ہماری گھٹی میں شامل ہے۔ اب نفرت کرنے کے لیے ہندو موجود نہیں، لیکن ہم خود تو موجود ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو بآسانی کافر قرار دے دیتے ہیں۔ ہم دیواروں پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت آمیز نعرے لکھتے ہیں، جنہیں پڑھ کر مخالف فرقے کے معصوم افراد دل گرفتہ ہوتے ہیں۔
ہم مخالف فرقے کے افراد سے بیٹیوں کی شادیاں نہیں کرتے۔ بیٹے چونکہ مرد ہوتے ہیں، اس لیے انہیں زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔ ہماری غیرت کا تعلق ہمیشہ ہماری عورتوں سے جوڑا جاتا ہے۔ ہم ان کی آزادی کو بےغیرتی سمجھتے ہیں اور بعض اوقات غیرت کے نام پر انہیں قتل بھی کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف ان پڑھ طبقے تک محدود نہیں؛ مذہبی غیرت کا تعلیم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
ہمارے بہت سے پڑھے لکھے افراد بہتر مستقبل کے لیے مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہ وہاں کی آزادی، عقلیت پسندی، علم، دیانتداری، اور سائنس و تحقیق میں ترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور ان سے سیکھتے ہیں۔ لیکن وہ جنسی آزادی سے خائف رہتے ہیں۔ وہ ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کے مذہبی تصورات سے متصادم ہے، اور بغیر شادی کے تعلقات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
یہی وہ عوامل ہیں جو بعض افراد کو وطن واپسی پر مجبور کرتے ہیں، خاص طور پر جب ان کے بچے، بالخصوص بیٹیاں، بلوغت کی عمر میں داخل ہوتی ہیں۔ جو لوگ واپس نہیں آتے، ان کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کی بیٹیاں مقامی افراد سے شادیاں کر لیں گی، اور یوں ان کی “نسل” متاثر ہو سکتی ہے۔
وطن لوٹنے والے اوورسیز پاکستانی اکثر مغربی شہریت رکھتے ہیں۔ وہ چھٹیاں گزارنے کے لیے وہاں جاتے ہیں، لیکن اپنی بیٹیوں کی شادیاں وطن میں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بہترین اولاد وہ ہوتی ہے جو فرمانبردار ہو۔ انہیں ریشنل سوچ رکھنے والی اولاد سے خدشہ ہوتا ہے کہ وہ نافرمانی کر سکتی ہے۔
حال ہی میں میں نے ایک پاکستانی نژاد امریکی مسلمان ڈاکٹر کا ایک میڈیکل اسکول میں خطاب سنا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی ایک امریکی مسیحی لڑکے سے دوستی کا ذکر کیا۔ وہ خود پاکستان میں ایک نہایت قابل اور ادبی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ لیکن اس تقریر میں جو بات نمایاں تھی، وہ یہ کہ انہوں نے خاص طور پر وضاحت کی کہ وہ لڑکا ان کی بیٹی کا بوائے فرینڈ نہیں تھا۔ مزید برآں، انہوں نے اس کی دلیل یہ دی کہ وہ لڑکا ہم جنس پرست تھا، اس لیے ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔
یہ جملہ بظاہر ایک معمولی بات لگتی ہے، لیکن اس کی نفسیاتی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہی وہ جڑیں ہیں جن پر ہمارے معاشرتی رویے استوار ہیں، اور جنہیں سمجھنا اس پورے بیانیے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
فیس بک کمینٹ

