پچھلے کچھ دنوں سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے ذاتی معالجین نے ان کی ایک آنکھ کی ورید (وین) میں خون کا لوتھڑا جمنے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان کا علاج ریٹینا یا پردۂ بصارت کے ماہرین سے کروایا جائے۔ تاہم حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حالت تشویشناک نہیں ہے اور ان کی آنکھ کی پیچیدگی کا علاج کامیابی سے کیا جا چکا ہے۔ حکومت کے مطابق متاثرہ آنکھ کی بینائی 70 فیصد تک ہے اور وہ عینک لگا کر دونوں آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔
عمران خان کے حوالے سے ایک بیان آیا ہے کہ انہیں کچھ نہیں چاہیے، صرف بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان حوصلے سے جیل کاٹیں اور روزے رکھیں۔
عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں۔ ان کے علاوہ ملک میں اور بھی بہت سے سیاسی رہنماؤں کو قید کیا گیا ہے۔ ان میں بلوچستان سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔ ایک آزاد ریاست میں ہر شہری کو اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہر دور میں سیاست دانوں کو قید و بند میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب الرحمٰن، غوث بخش بزنجو، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، عبدالولی خان، آصف علی زرداری، شہباز شریف، مریم نواز، ماہ رنگ بلوچ اور عمران خان شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان افراد کو قید کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آتی رہی ہے؟ اگرچہ زیادہ تر سیاست دان فوجی حکومتوں کے ادوار میں قید رہے، لیکن سول حکومتوں نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کو انتقامی بنیادوں پر جیلوں میں ڈالا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری دو ایسے سیاست دان تھے جنہوں نے خود جیل کاٹنے کے باوجود اپنے ادوار میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا اور سیاست میں انتقامی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کی۔
میرا خیال ہے کہ سیاست دانوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر انہیں جیلوں میں مقید رکھنے کے پیچھے ہمیشہ پاکستانی سول اور فوجی اشرافیہ ہی کارفرما رہی ہے، جو ان سیاست دانوں کی مقبولیت سے خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان سیاست دانوں کی سرگرمیوں سے اشرافیہ کے مالی مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم بہت کم جرنیلوں کو عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ دودھ کے دھلے ہوتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک طاقتور اور منظم ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، جو اپنے زیادہ تر حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کا تحفظ کرتا ہے۔ اصولی طور پر ایسا نہیں ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں عملاً یہی ہوتا ہے۔
اب سیاسی حکومتوں کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ ان کی حکومتیں کسی بھی وقت ختم کی جا سکتی ہیں، اس لیے وہ ہمیشہ ذہنی طور پر اس امکان کے لیے تیار رہتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا حالیہ بیان قابلِ غور ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اقتدار کبھی کسی ایک ہاتھ میں نہیں رہتا بلکہ ریت کی طرح پھسلتا رہتا ہے۔
عمران خان نے ہمیشہ دیگر سیاست دانوں سے کچھ مختلف سیاست کی ہے۔ ان کی سیاست کا مرکزی ہدف نواز شریف اور آصف علی زرداری رہے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کے یہی دو سیاست دان اور ان کے خاندان حقیقی سیاسی ولن ہیں۔ 2022ء سے پہلے انہوں نے کبھی طاقتور فوجی ادارے سے براہِ راست ٹکر نہیں لی، اسی وجہ سے ان کی سیاست مسلسل عروج کی طرف گامزن رہی۔ اب وہ دو برس سے جیل میں ہیں۔ جیل کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی۔
اتنی سختیاں جھیلنے کے باوجود وہ آج بھی اپنے مخالف سیاست دانوں سے مصالحت کے لیے تیار نہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پوری سیاست ہی ان شخصیات کی مخالفت پر استوار ہے۔ یوں انہوں نے خود پر مفاہمت کے دروازے فوج اور سیاست دانوں، دونوں طرف سے بند کر رکھے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ پاکستان کے نیلسن منڈیلا ہیں؟ نیلسن منڈیلا نے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی اور طویل قید کاٹی۔ عمران خان کن کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں؟ کرپشن کے خلاف؟ لیکن خود ان پر اور ان کے قریبی ساتھیوں پر بدعنوانی کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ کیا فوجی جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے خلاف؟ لیکن ان کی لڑائی مجموعی فوجی مداخلت کے خلاف کم اور ایک جرنیل، عاصم منیر، کے خلاف زیادہ دکھائی دیتی ہے، جو کسی سیاسی نظریے سے زیادہ ذاتی مخاصمت معلوم ہوتی ہے۔
کیا ان کی جنگ نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان کے خاندانوں سے ہے کیونکہ وہ کرپٹ ہیں؟ یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے، لیکن کیا یہ دونوں سیاست دان اتنے طاقتور ہیں کہ عمران خان کو جیل میں رکھ سکیں؟ خود آصف علی زرداری کئی سال جیل میں گزار چکے ہیں، جیل کو اپنا دوسرا گھر کہتے رہے ہیں اور ہمیشہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار بھی دکھائی دیتے ہیں۔
عمران خان کی موجودہ سیاست کے پیچھے جو بھی محرکات ہوں، ایک بات طے ہے کہ وہ کسی سے مفاہمت پر آمادہ نہیں اور حوصلے کے ساتھ جیل کاٹ رہے ہیں۔ وہ نیلسن منڈیلا ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ صبر اور استقامت کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ان کا دور واپس آئے گا۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اور آپ کو؟
فیس بک کمینٹ

