رات نجانے کس پہر آنکھ کھلی۔ بہت دیر سے نیند نصیب ہوئی تھی۔ وہ بھی بے حد کچی، پکی۔ پچھلے پندرہ دن کی مشقت، افراتفری اور ہفتے بعد آنے والے نئے براعظموں کے سفر نے ویسے بھی نیند چرا لی تھی۔ اس لئے نیند میں آنے والے خیالات بھی بے ربط اور بے ترتیب تھے۔
پتہ نہیں وہ کدھر ہو گا؟
کیا؟ ذہن میں دھندلاہٹ تھی۔ پھر یکدم جھپاکا ہوا۔ تو خود ہی جواب بھی مل گیا۔
سلور کا گول ڈبہ، جس پر شیشے کا ڈھکن سلور کے ہی حاشیے اور ہینڈل کے ساتھ خوبصورت لگتا تھا۔ دو کلو تک کوئی چیز اس میں محفوظ کی جا سکتی تھی۔ وہ اس میں دیسی گھی بنا کر رکھتی۔
پیکنگ کے وقت وہ کدھر رکھا تھا؟ اگلا سوال۔۔دماغ اسی طرح دھندلا، کوئی جواب نہیں آیا۔
وہ تو ابا کو دینا تھا۔ بس یہ واضح یاد تھا اور اسی احساس نے بے چین کر کے جگایا تھا۔
پھر دیا کیوں نہیں؟
کس کے پاس ہے؟
کیا سامان میں رکھا تھا؟
اگر نہ ہوا، تو؟ گھر تو بالکل خالی کر کے آئے ہیں؟ کہاں ملے گا؟
اتنے سامان میں وہ چھوٹا سا ادھر ادھر ہو بھی گیا تو کسے خبر؟
جیسے جیسے سوچتی، دل بیٹھتا۔ کہ وہ تو ابا کو دینا تھا۔
اور جتنے سوال بڑھتے، یادداشت کی دھند نکھرتی پچھلے ایک ہفتے کی کڑی سے کڑی ملاتی یہ بتاتی کہ فلاں فلاں جگہ فلاں فلاں سامان رکھا تھا۔ کون سی چیز، کس ڈبے میں پیک کی تھی۔ گتے کے ڈبے کے باہر کیا لکھا تھا۔ کس نے لکھا تھا۔ کس ٹرک پر کیا لادا گیا؟ کتنا وقت لگا؟ کتنا سامان بک گیا۔ کون کون سا نہ ڈبوں میں گیا نہ بیچا گیا۔ تحفتا دے دیا گیا یا دینے کو الگ کر دیا گیا۔
ہاں، وہ ڈبہ انہی دئیے جانے والے تحائف کا حصہ تھا۔ مزید ایک اور کڑی ملی کہ ایک آنٹی بھی تو کچھ خریدنے آئیں تھیں۔ باورچی خانے کی سفید ماربل کے سلیب اسی طرح کی چیزوں سے بھری پڑی تھی۔ باقی گھر بکھرا، ادھڑا اور سامان سے اٹا تھا۔ وہ آنٹی یونہی چلتی چلتی امریکی نعمت کدے تک آئیں۔ اچانک نظر اس ڈبے پر پڑی اور فدا ہو گئیں۔
یہ مجھے دے دو۔
آپ کچھ اور دیکھ لیں۔
کتنے میں دینا ہے؟
آنٹی یہ نہیں دینا۔
کہاں سے لیا؟ میرا دل آگیا ہے۔ پیسوں سے لوں گی۔
برائے مہربانی! میں سمجھتی ہوں۔ لیکن اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ کہیں بھیجنا ہے۔
ان سے معذرت کر لو۔ ابھی خالی کر دو۔ یہ میں ابھی لے جاتی ہوں۔ باقی کا سامان لوڈر پر بچے لے جائیں گے۔
وہ مسکرا دی لیکن ڈبہ خالی نہیں کیا۔
تو اس کا مطلب وہ اس کھلے سامان میں تھا۔ ایک اور سوال۔ تھا تو۔ وہ کھلا سامان کس نے سمیٹا؟
خاموشی۔
کروٹ بدلی۔ رضائی سے پاؤ ں باہر نکالے۔ مگر پھر پہلی کروٹ پر آگئی۔
شائد، شوہر نے۔
لیکن وہ تو شہر میں نہیں تھے۔
بچوں نے؟
نہیں۔۔وہ تو ویسے ہی بدلی صورت حال کی وجہ سے بجھے تھے۔
ہاں۔۔بھائی صاحب۔
بالکل وہی۔ انھوں نے ہی تو وہ سامان اپنی گاڑی میں بھرا تھا۔
تو مجھے یاد کیوں نہیں؟
پہلی مرتبہ، بالائی منزل۔ پیکنگ کے لئے مزدور آئے ہوئے تھے۔ ہر کمرے میں آوازیں اور الٹ پلٹ ہو رہی تھی۔
دوسری بار، کئی گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر کام نمٹا رہی تھی۔
یہ یاد آتے ہی وہ ادھ کھلی آنکھوں اور ستر فی صد جاگتے لیکن ڈولتے دماغ کے ساتھ لیٹے سے اٹھ کے لحاف میں دبک گئی۔ وہ نچلی منزل کے مہمان خانے میں تھی۔ اور بھائی صاحب اوپر۔ اتنے میں موذن نے فجر کی ‘اللہ اکبر، اللہ اکبر’ کی صدا دی۔ اس پکار کے ختم ہوتے ہی اس نے موبائل کے لئے ‘زیرو پاور’ کی بے حد مدھم روشنی میں دیکھنا شروع کیا۔ تکیے کے نیچے دبا ملا۔ بھائی صاحب کا نمبر نکال کے صوتی پیغام بھیجا اور پوچھا کہ ایسا کوئی ڈبہ آپ کی نظر سے گزرا تھا یا سامان سے نکلا؟
علی الصبح کس نے سننا تھا۔
وہ منتظر تھی اور ڈول رہی تھی۔ مضطرب تھی اور گومگو کی کیفیت میں بھی تھی۔
اگلے ایک گھنٹے میں جواب بھی آیا اور اس کے فورا بعد وہ ڈبہ بھی۔
اسے دیکھ کے جو خوشی ہوئی، ناقابل بیاں۔ لیکن ابا کے باورچی خانے میں اسے رکھ کے جو طمانیت ملی، وہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جب ابا نے اس میں ڈلے گھی کو کھانے میں استعمال کیا تو سمجھو سیروں خون بڑھا۔
اسے معلوم ہے کہ گھی ختم ہو جائے گا۔ ڈبہ دھل جائے گا۔ کل کو اس میں کوئی اور چیز رکھی جائے گی۔ لیکن ڈبہ وہی رہے گا، میکے گھر میں اس کے ابا کے سامنے وقتا فوقتا آئے گا۔ پھر اس کی کوئی بات چھڑے گی۔ ذہن اور گفتگو میں وہ یاد کی جائے گی۔ اور جب تک دوبارہ ملاقات نہیں ہو گی، وہ اس ڈبے کی شکل میں موجود ہو گی۔
بالکل ویسے، جیسے بہنوں، بھائیوں، دوست، احباب کو دئیے جانے والے چھوٹے بڑے تحفے، ماں کی نشانیاں، ذاتی پسند کی پیاری چیزیں، کتابیں، فوٹو فریم، کھلونے سب دراصل چیزیں نہیں۔ اس کی محبت کی نشان ہیں۔ شوق کے نقش ہیں۔ سوچ کا عکس ہیں۔ محنت کی مہریں ہیں۔ جو کسی کے پاوں میں ہیں۔ کسی کے گھر کی دیواروں پر۔ کسی کے باغیچے میں اور کسی کی پڑھائی کی میز پر۔ کسی کے بدن پر تو کسی کے دستر خوان پر۔ جن کی وقعت کا تخمینہ نہیں۔ ان کا بھاؤ ، ان کی لمبائی، چوڑائی میں نہیں۔ حقیقتا، وہ چالاکی سے اپنا آپ، خود کی جھلک اپنے پیاروں کے پاس چھوڑ آئی ہے۔
وہ چیزیں، نشانیاں ہیں، چیزیں نہیں۔
فیس بک کمینٹ

