ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف آزاد خان کے حکام پر معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے ہدایت جاری کی ہین کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پیشہ ورانہ طرز عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔
Browsing: خواتین
اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے مطابق تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، بچوں کو قتل کے بعد لاشیں لٹکائی گئیں۔
اسپتال ذرائع کا بتانا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیب روانہ کردیے گئے ہیں۔
اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ نواحی علاقے چک نمبر 125 کے قریب ایک مارکیٹ میں پیش آیا جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط وصول کرنے کے لیے آنے والی 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کے بعد شیخ زید ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ واقعہ کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
کچھ باتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، جیسے کہ رمضان کے احترام کے نام پر روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ہم نے خود پر وہ پابندیاں کیوں لگا رکھی ہیں جو خدا اور اُس کے رسول اللہﷺ نے بھی نہیں لگائیں۔ مثلاً مسافر، بیمار اور خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو اپنے مخصوص ایام سے گزر رہی ہوں، روزہ نہ رکھنے کی باقاعدہ رخصت ہے لیکن مجال ہے جو ہمارا معاشرہ اللہ کی دی ہوئی اس چھوٹ کو ہضم کر لے۔ ہم تقویٰ کے زعم میں خدا کے احکامات سے بھی (معاذ اللہ) دو ہاتھ آگے جانا چاہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے، ہم نے خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا، اخبارات میں مضامین چھپے، دانشوروں نے بھاشن دیے اور مذہبی طبقے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام نے عورت کو کتنا بلند مقام دیا ہے لیکن ہماری جامعات اور اُن میں خواتین کے ہاسٹلز کا یہ حال ہے کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی اُن کی کینٹین، کیفے ٹیریا اور کچن پر غیر اعلانیہ مارشل لاء لگ جاتا ہے۔
راولپنڈی کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے دوران دس ہزار سے زیادہ خاندانی تنازعات اور طلاق کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح لاہور میں ہزاروں خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف قانونی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے میں رشتوں کی مضبوطی کو نظر نہ آنے والی دراڑ لگ چکی ہے۔
رات نجانے کس پہر آنکھ کھلی۔ بہت دیر سے نیند نصیب ہوئی تھی۔ وہ بھی بے حد کچی، پکی۔ پچھلے پندرہ دن کی مشقت، افراتفری اور…
ہمارے مشاہیر جتنے بھی تھے یا لمحہء موجود میں ہیں ، سبھی اپنی اپنی قوم کے جوانوں کی صلاحیتوں کے معترف ہیں ۔۔ وہ تو یہاں…
( گزشتہ سے پیوستہ ) حالانکہ قرون وسطیٰ میں اسی مغربی معاشرے میں عورت فساد کی جڑ مجرم ذلت اور رسوائی کا نشان تھی اسی سماجی…
عہد موجود میں دنیا کے مختلف سرمایہ دارسماجی ادارے جبری طور پر عورت کو ایک مصنوعی اور نمائشی قالب میں ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں…
