عہد موجود میں دنیا کے مختلف سرمایہ دارسماجی ادارے جبری طور پر عورت کو ایک مصنوعی اور نمائشی قالب میں ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ہر وہ عورت جو شعور اور آگاہی رکھتی ہے اس کا پہلاسوال یہ ہے کہ میں کون ہوں ؟یہ عورت قدیم روایتی عورت بننے پر تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ سماجی قوتوں کی مرضی اور خواہش میں ڈھلنا چاہتی ہے ۔۔وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنا آپ خود دریافت کرے اور اپنے وجود اور اپنی حقیقت کو خود دریافت کرے تاکہ اس کی ذات کا فطری حسن ظاہر ہو سکے۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے ہو اس کا حقیقی چہرہ کون سا ہے ؟قدیم عورت کا روایتی چہرہ اور جدید عورت کا مصنوعی چہرہ انسانیت کے جوہر سے عاری ہے اس مسئلے میں مسلمان عورت جو ایک تاریخ اور تہذیب سے وابستہ ہے جہاں توانائی کا سرچشمہ اسلام ہے۔۔۔ یہاں وہ عورت نہ وراثتی اور روایتی چہرہ چاہتی ہے اور نہ ہی مغرب کی تقلید میں مصنوعی چہرہ پسند کرتی ہے وہ عورت رسول کی بیٹی فاطمہ کو جاننا چاہتی ہے ایک ایسی بے مثال خاتون تک رسائی چاہتی ہے جس کی شخصیت میں طاقت حرارت حوصلہ صبر استقامت گویاتمام اعلی صفات موجود ہیں مگر ہمارے خطباء نے اس عورت کے لیے فاطمہ کو ماضی کا ایک قصہ غم بنا کر پیش کیا ہے۔۔جلتا در اور بی بی پر ظلم سنا کر طاقتور اور جابر طاقتوں کے مقابلے ڈٹی ہوئی اس طاقتور خاتون کو ماضی کے چند آنسوؤں تک محدود کر دیا ہے ۔۔۔
جدید نسل کی عورت فاطمہ کو کہاں تلاش کرے گی جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی آ واز ،الہی حدود کی سب سے بڑی محافظہ،ایک عظیم سماجی رہنما ، مساوات اور عدل کی گونج دار آواز بن کر وقت کے تمام خیانت کار قوتوں کے مقابل ڈٹی ہوئی ہے ۔۔جس کا گھر جنت نظیر ہے جس کا معاشرے سے تعلق بے مثال ہے معاشرے سے جڑی ہوئی ایک بےنظیر خاتون جو بے مثال بیٹی ، باوقار زوجہ اور طاقتور ماں ہے ۔۔ ایک ایسا گھر جہاں مرد شاہ مردان (مردوں کا بادشاہ )اور عورت سیدۃ النساء العالمین (عورتوں کی سردار )ہے .. یہ دونوں عظیم شخصیات عوام کے لیے ناشناختہ ہیں تاریخ کے دھندلکوں میں اس کی اصل پہچان تک پہنچنا آج کی عورت کے لیے مشکل ہے اسے بتایا گیا ہے کہ یہ ہستیاں بس آ خرت کا توشہ ہیں اور بس !!
آزادی مساوات احترام انسانیت اور انصاف جیسے انقلابی افکار سے بہت دور کھڑی عورت فاطمہ کو کیسے پہچان سکتی ہے فاطمہ ارتقا کی ممکنہ آخری حد ہے ۔۔ایک مثالی عورت ۔۔۔فاطمہ کا گھر گویا بیدار دلوں کا کعبہ ہے جہاں دل اس گھر کا طواف کرتے ہیں انسانیت ،ازادی ،انصاف طلبی ،تقوی، عشق اور جہاد کے عاشق اسی کعبہ فکر کے زائر اور حاجی ہیں ۔۔۔ اس خاندان سے محبت کرنے والےعاشقوں کا مالی ایثار بھی عروج پر ہے لاکھوں روپے ان بے مثال ہستیوں کے ذکر پر خرچ کیے جاتے ہیں مگر نتائج حوصلہ افزا کیوں نہیں ہیں؟؟ کیوں یہی عاشق جو ر واستبداد، ظلم اور استحصال کا شکار ہیں؟؟ ہمارا عشق اور ایمان ہماری زندگیوں پر اثر انداز کیوں نہیں ہو رہا؟؟ سبب فقط یہ ہے کہ ہم ان عظیم ہستیوں کو پہچاننے سے معذور ہیں ۔ہم ان کی شخصیات سے بے خبر ہیں ہم ان کی باعظمت کردار و عمل سے ناواقف ہیں اور اس بیچارگی اور کم علمی کے مجرم وہ علماء خطباء اور دانشور ہیں جنہوں نے ان انقلاب آفرین اور روح پرور ہستیوں کو ان کے عاشقوں سے پردے میں رکھا ہے ہمیں ایسے صاحب بصیرت دانشور چاہییں جو ان ہستیوں کی ودیعت کردہ اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور دیں مکتب کی شناخت دیں آئمہ کی سیرت اور فکر عام کریں چند معجزے ، کرامتیں اور آنسو ان عظیم ہستیوں کا مکمل تعارف نہیں ہیں بلکہ عمومی معاشرے میں ان کے انقلابی افکار اور قابل تقلید عمل وکردار ہیں جن سے بے خبر عاشق بہت دور ہیں اس لیے اس عشق کے ظاہری ثمرات سے محروم ہیں ۔۔
اس وقت دنیا میں عورتوں کی تین قسمیں ہیں ایک روایتی عورت ہے دوسری مغربی تقلید میں مصنوعی عورت اور تیسری وہ جو حضرت فاطمہ سے شخصیت کا ہنر سیکھنا چاہتی ہے اس وقت دو نسلوں کے درمیان ایک ان دیکھا فاصلہ جنم لے رہا ہے جس طرح اس وقت گائے کا دودھ بھی میسر ہے اور کیمیائی مادوں سے بھرا ڈبوں میں بند دودھ بھی مل رہا ہے۔۔۔ایک کہنہ روایات میں پھنسی مجبور عورت اور ایک مغرب کی چکا چوند میں ڈھلتی ہوئی مصنوعی عورت !!جدید دور کے سماجی شکاریوں کا شکار بیٹی اپنی روایتوں میں پھنسی ہوئی ماں سے بہت دور ہے ۔۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ فاطمہ زہراء کے تقلید میں شخصیت کی تعمیر ہوگی تو دونوں نسلوں کے مابین فاصلہ نہیں بلکہ ہم رنگی ہوگی جنریشن گیپ نہیں رہے گا کیونکہ ماں اور بیٹی دونوں کی شخصیت میں ایک جیسی عظمتیں کار فرما ہوں گی اب صورتحال یہ ہے کہ پرانی روایتی ماں اپنی بیٹی کی جدید مصروفیات کو کفر گردانتی ہے اور بیٹی ماں کو جاہل اور کم عقل سمجھتی ہے روایتی ماں اپنی کہنہ روایات کو مذہبی رنگ دے کر اپنی بیٹی کو اس سراپے میں دیکھنے کی خواہش مند ہے اور بیٹی اسے روایات میں پھنسی ہوئی ایک کمزور ہستی سمجھ کر اس سے دور ہے اس وقت معاشرے میں دو طبقے ہیں ایک وہ جو روایات کہنہ کا اسیر ہے اور پرانے خیالات کے تحت معاشرے ان میں ان روایات کا نفوذ چاہتا ہے جو اپنی توانائی کھو چکی ہیں دوسرا وہ طبقہ ہے جو جدیدیت کے سیلاب میں خود کو پسماندہ متعصب اور تنگ نظر نہیں کہلانا چاہتا جس کی وجہ سے اس کی اگلی نسل مادر پدر ازاد ہو کر جدیدیت کے کھوکھلے اورمصنوعی میدانوں میں آگے بڑھتی ہے اور یہ خوفزدہ طبقہ ظاہری دانشوری کے زعم میں خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں ایک طبقہ لعنت و ملامت اور طعن و تشنیع سے اس مادہ پرست سیلاب کو روکنا چاہتا ہے اور دوسرا خود کو اغوا کار قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ترقی پسند ہونے کا لبادہ اوڑھے بیٹھا ہے۔۔
مغرب زدہ عورتیں ہر ملک میں موجود ہیں اور یہ عورتوں کی بین الاقوامی قسم ہے ۔آج کی عورت مغرب کی مادام گواشن سے آشنا نہیں ہے جس نے بو علی سینا ابن رشد اور ملا صدرا جیسے اکابر فلسفیوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا اور ان سے استفادہ کیا فکر یونان پر معرکۃ الآرا کام کیے نہ آج کی عورت اٹلی کی اس خاتون سے واقف ہے جس نے یونان کے ارسطو کے رسالہ نفس کی روشنی میں بو علی سینا کی کتاب نفسیات کی تصحیح کی نہ مادام کیوری کے بارے میں معلوم ہے جس نے تابکاری جیسے مسائل پر تحقیقی کام کیے نہ وہ خاتون ریسڈلا چیپل کو جانتی ہے جس نے تمام زندگی علی کی شخصیت اور افکار پر کام کیا اور اپنی تمام زندگی دنیا کے اس علمی معمے اور دیو مالائی سچ کی شناخت میں گزار دی اس نے علی کی عظیم شخصیت کے درست ترین حقائق روحانی عظمت اور بلند و بالا حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔۔ اس دختر فرنگ نے نہج البلاغہ جیسی علمی کائنات کو کشف کیا علی کے باعظمت کلام کو مرتب و مدون کیا ہم ان دختران فرنگ سے بھی ناواقف ہیں جنہوں نے الجزائر کی جنگ ازادی میں عظیم کردار ادا کیے ہمیں آئرلینڈ کی انجلہ کے بارے میں بھی نہیں معلوم جو مجاہدہ آزادی بنی اس لیے جان لیجئے کہ مغرب کی نمائندہ خاتون وہ نہیں جو فحش لباس اور محزب اخلاق حرکات کے ساتھ آپ کے تصورات میں جلوہ آرا ہے جو رنگ برنگا اشتہار اور مردوں کا کھلونا ہے ایک ایسی جدید دور کی کنیز جو شہوت پرستوں کی ہوس کے لیے ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم فقط مغرب کی حسینہ عالم کے بارے میں جانتے ہیں انجلینا جولی کو مغربی عورت کا چہرہ سمجھتے ہیں جو مغرب کی افزائش زر کا باعث ہیں افزائش نسل کا نہیں !! یہ مغربی عشرت کدوں کی کنیزیں ہیں یہ وہ زنِ بازاری ہیں جن کی تقلید میں مشرقی عورت اپنا تن من دھن لٹانے کے لیے تیار ہے مغرب ہمیں کبھی ان خواتین کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا جو یونیورسٹیوں میں تحقیق کے میدانوں کی شہ سوار ہیں جن کی خدمات سے مغرب ترقی کے زینے طے کر رہا ہے ہمیں فقط زن بازاری سے ملوایا جاتا ہے اس کی کھوکھلی چکا چوند اور حقیر شخصیت ہمارے ہاں تقلید کے لیے پیش کی جاتی ہے عورتوں کی اس قسم کو بڑھاوا دے کر مشرق کو اس کی طرف متوجہ کرنے والی وہ طاقتیں ہیں جو عورت کو اپنی مادی ترقی کا زینہ بنا کر معاشرے سے اقدار اور انسانیت چھین کر اس مادی نظام کو لانا چاہتی ہیں جو صرف اس دنیا پر نظر رکھنے والی دجالِ وقت کی ایک ہی مادی آ نکھ ہے ۔۔۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

