یہ تحریر کسی افواہ، قیاس یا ادبی حسد کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے، جو ایک خاتون شاعرہ کی طرف سے موصول ہوئی۔ ایسی شاعرہ جنہوں نے بجا طور پر اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کی۔ انہوں نے جو کچھ لکھا، وہ پڑھ کر حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ ادب کی دنیا میں سرمایہ داری کس بے رحمی سے اخلاق، وقار اور ضمیر کو روند چکی ہے۔یہ وہ نو نکاتی ڈیل ہے جو شاعری کے نام پر ایک خاتون کے سامنے رکھی گئی اور جسے کسی ترمیم، کسی اختلاف، اور کسی سوال کے بغیر قبول کرنے کا تقاضا کیا گیا۔
یہ نکات ذرا توجہ سے ملاحظہ کیجیے:
1۔ شاعرہ پابند ہو گی کہ اپنا ہر کلام، ماضی کا ہو یا حال کا، کمپنی کو پیشگی ارسال کرے۔
2۔ شاعرہ کسی بھی پلیٹ فارم پر ایک لفظ بھی اپنی مرضی سے پوسٹ کرنے کی مجاز نہیں ہو گی۔
3۔ ڈیل میں طے پانے والی کسی بھی شرط سے اختلاف یا حکم عدولی کی اجازت نہیں ہو گی۔
4۔ شاعرہ صرف اور صرف اپنے اکاؤنٹ کے نام پر مواد شائع کرے گی، اختیار مگر کمپنی کا ہو گا۔
5۔ شاعرہ انہی مشاعروں میں شرکت کرے گی جہاں اسے کمپنی کی طرف سے بھیجا جائے گا۔
6۔ ہر مشاعرے، سرکاری ہو یا نجی، اس سے حاصل ہونے والا اعزازیہ برابر تقسیم ہو گا: نصف شاعرہ کا، نصف کمپنی کا۔
7۔ شاعرہ کو ہر ہفتے دو راتیں کمپنی کے شعرا یا کمپنی کے منتخب کردہ شعرا کے “دربار” میں گزارنا ہوں گی۔
8۔ شاعرہ کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کمپنی کے کنٹرول میں ہوں گے، مگر ان کے تمام اخراجات ماہانہ بنیاد پر شاعرہ خود ادا کرے گی۔
9۔ شاعرہ کسی بھی صورت کمپنی یا اس کے افراد کا نام نہیں لے گی۔ بصورتِ دیگر اس کی تصاویر، ذاتی معلومات اور کمزوریوں کو استعمال کر کے اسے سماجی طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
یہ نکات کسی تخلیقی معاہدے کی شقیں نہیں، یہ ایک مکمل نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی جکڑبندی ہے۔ اور اس کے بدلے میں جو مراعات گنوائی گئی ہیں، وہ اور بھی زیادہ افسوسناک بلکہ شرم ناک ہیں۔
صفِ اول کی شاعرہ “بنا” دی جائے گی، کلام استاد لکھ کر دیں گے، جعلی ڈگریوں کا بندوبست ہو گا، سرکاری مشاعروں میں بااثر افراد کے شانہ بشانہ بٹھایا جائے گا، میڈیا، چینلز، ریڈیو، اخبارات اور پچاس سے زائد سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے صبح و شام پروموشن کی جائے گی۔ یعنی ادب بھی خریدا جا سکتا ہے، شہرت بھی، اور قابلیت بھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سرمایہ داری نے نام نہاد ادیبوں کو اس حد تک گرا دیا ہے کہ ہر شے بکاو مال بن چکی ہے۔ قلم بھی، کردار بھی، اور بدقسمتی سے عورت بھی۔
ماضی میں بھی ایسی کئی غیر اعلانیہ ڈیلز ہوئیں، لیکن آج سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں شہرت بجلی کی طرح پھیلتی ہے، وہیں سچ بھی چھپ نہیں پاتا۔ یہ تحریر کسی ایک نام کے خلاف نہیں، بلکہ اس پورے مکروہ نظام کے خلاف ہے جس میں طاقتور “استاد” اور کمزور “شاگرد” کے بیچ موجود اخلاقی سرحدوں کو روند دیا جاتا ہے۔
یہ ان تمام کرداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے:
آپ کا راز اب راز نہیں رہا۔
اگر آئندہ کسی خاتون شاعرہ کو اسی طرح استحصال کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو بات محض تحریر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ شواہد کے ساتھ منظرِ عام پر لائی جائے گی۔
اس صورتحال پر ہم صرف کفِ افسوس ہی مل سکتے ہیں۔ کیسے کیسے بت ہم نے بنائے تھے جو آج ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے۔ پیسے اور جنس کی ہوس انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے کہ وہ ادب جیسے مقدس شعبے کو بھی اپنی سفلی خواہشات کی نذر کر دیتا ہے۔
ادب اگر بازارِ حسن بن جائے تو پھر اہل ادب کی خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ اور یہ خاموشی اب مزید ممکن نہیں۔
فیس بک کمینٹ

