گزشتہ سے پیوستہ
پروین شاکر کی نظموں میں ہر طبقے کی عورت اپنے ذہنی و جذباتی رویوں سمیت جلوہ گر ہے چاہے مزدور پیشہ عورت یا اعلیٰ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون ،اَن پڑھ گھریلو عورت ہو یا اعلیٰ عہدے پر فائز ،سب کے اپنے مسائل اور المیے ہیں۔ اپنی سوچیں ،خواب،آرزوئیں ،امنگیں ہیں ،وہ دکھ درد بھی موضوعِ بحث بنے ہیں۔معاشرے کی تنگ نظری اور دہرے نظامِ معیار کا ذکر ان کے ہاں بہت مؤثر انداز میں ملتا ہے وہ عورت کی بے بسی پر کُڑھتی ہیں اس لئے مزاحمتی طرز کا اندازِبیان نہ صرف ان کی نظموں بلکہ غزلوں میں بھی ملتا ہے۔ان کے یہاں کئی نظموں میں عورت کی بے زبانی اور مظلومیت کا اظہار ملتا ہے۔ جن میں عورت کے استحصال کے کئی رنگ ہیں۔ ان میں ناٹک ،مجبوری،نارسائی،پہرے،بنفشے کا پھول ،نِک نیم، کتوں کا سپاس نامہ ، کنیا دان ، بشیرے کی گھر والی ،اسٹینوگرافر جذیہ،پوسٹ ڈائیر آئیٹم ،لیڈی آف دی ہاؤس خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ان نظموں میں موضوعات کے علاوہ ان کی فنی ہنر مندی کے بہت عمدہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جو انہیں اپنی ہم عصر شاعرات سے ممتاز کرتے ہیں۔آج جب کہ دنیا ترقی کے بامِ عروج پر ہے بظاہر عورت مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہرموڑ پر گامزن ہے ایسے میں اس کی تحقیر و تذلیل کے طریقے نئے ہیں۔ لیکن نوعیت وہی پُرانی ہے جو صدیوں پہلے تھی "صرف ایک لڑکی ” میں تمثیلی انداز میں شاعرہ عورت کو سماج کی خود ساختہ رسوم و رواج میں جکڑی ہوئی عمر قید کی ملزم بتاتی ہے ۔
اِسی قسم کی ایک اور نظم ” بنفشے کا پھول” کا تجزیہ کرتے ہیں ۔یہ نظم وڈزورتھ کی نظم” A violet under a hidden rock”سے متاثرہو کر لکھی گئی ہے۔اس میں علامتی انداز میں بنفشے کی کہانی ہے جو جنگل کی وسیع و عریض کیف آور مست ہواؤں میں پنپنے سے لے کر ایک امیر آدمی کے ڈرائینگ روم کی زینت تک کے عمل پر مشتمل ہے اصل میں شاعرہ اسکے ذریعے یہ بات واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ایک لڑکی کی زندگی کا سہانا بچپن بابل کے دیس میں گڈے گڑیا کے بیاہ رچانے ،ساون رتوں میں جھولے جھلانے اور خوبصورت سپنے سجانوں میں بیت جاتے ہیں۔ انجان ماحول اور انجا ن لوگوں میں وہ اپنے اندر کیسی گھٹن اور اپنی تمناؤں ،امنگوں اور خوابوں پر کیسے کیسے جبر محسوس کرتی ہے۔فرائض اور ذمے داریو ں کے انبار کے ایک لامتناہی سلسلے میں پھنس کر کس طرح اپنے آپ سے بچھڑ جاتی ہے وہ بچپن کے اُس سہانے ، بے فکرے دور کوتلاشتی رہتی ہے جو وقت کی بھول بھلیوں میں کہیں کھو گیا ہوتا ہے۔
"نِک نیم ” میں کم و بیش یہی صورتحا ل ملتی ہے ۔عورت جس کے وجود سے تصویر ِکائنات میں رنگ ہیں وہ اپنی اصل حقیقت سے آگاہ ہے ۔ پروین شاکرؔ عورت کے اعتبار کی شکست و ریخت کا ان الفاظ میں ذکر کرتی ہیں:
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو
ٹھیک ہی کہتے ہو
جو پہنا دو، مجھ پہ سجے گا
میرا کوئی رنگ نہیں
جس بچے کے ہاتھ میں تھما دو
میری کسی سے جنگ نہیں
سوتی جاگتی آنکھیں میری
جب چاہو بینائی لے لو
کوک بھرو اور باتیں سن لو
پیار کرو آنکھوں میں بساؤ
اور پھر جب دل بھر جائے
دل سے اُٹھا کے طاق پہ رکھ دو
تم گڑیا کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو ۔
پروینؔ شاکر کی شاعری خالص مشرقی عورت کی شاعری ہے،اس کامرثیہ ہے، جوایک مجسم حسن ووفاہے۔مشرقی عورت اپناماضی نہیں بھولتی،جب کہ مرد ماضی کو بھول کراپنی ایک نئی دنیابسالیتا ہے۔پروینؔ کی نظموں میں یہ موضوع بہت واضح طورپر ابھرکرسامنے آتاہے۔مرد کی بے وفائی اور سنگدلی کاشکوہ کبھی نظم "آنے والی کل کادیکھ”تو کبھی”چاندنی رات”اور کبھی”ردعمل” میں صاف طور پر دیکھنے کو ملتاہے۔ایک نظم ملاحظہ فرمائیں :
چاندرات
ہوا ! کچھ آج کی شب کابھی احوال سنا
کیاوہ اپنی چھت پر آج اکیلا تھا؟
یاکوئی میرے جیسی ساتھی تھی،اور اس نے
چاندکو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھاتھا؟
یہ حقیقت ہے کہ پروین شاکر کی شاعری کے تخلیقی سوتے تخیل کی مضمون آفرینی کی بجائے مشاہدات و تجربات کی پہنائیوں اور گہرائیوں سے پھوٹتے ہیں ان کی نظموں میں کہیں "آورد” تو کہیں "آمد” کا احساس ہوتا ہے ۔لیکن دونوں صورتوں میں احساسات کی شدت ان کے شعور و حواس پر غالب رہتی ہے ۔دوسری خوبی تصنع اور بناوٹ سے پاک لب و لہجہ ہے جس میں سچے اور حقیقت پسندانہ پیرائے میں ان کے شعری تجربے اظہار پاتے ہیں۔
پروین شاکر کی نظموں میں حکایت نگاری کا اسلوب بھی نظر آتا ہے ۔ داستانوی و طلسماتی فضا دونوں شعری اصناف میں پائی جاتی ہیں۔ جو ہمیں مجید امجد،ن۔م راشد ،ابن انشا اور منیر نیازی کے ہاں ملتی ہیں۔نظم "سنڈریلا” میں قاری کو لوک کہانیوں کی پرانی تلمیح کی طرف متوجہ کرتی ہے جس کے ذریعے بیانیہ انداز خوابوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا المیہ بیان کرتا ہے۔شروع میں ایک طلسماتی فضا تراشی گئی ہے۔ ایک اَن دیکھا سحر انگیز خواب، ایک اچھوتی خواہش کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔آنگن سے آسمان تک روشن دیے، تازہ گلابوں کی مہک چمن سے صحنِ چمن تک پھیلی ہوئی ہے ، بلوریں جام، ستاروں سے بنا لباس، سراپا شوق و اضطراب اور ایک شہزادہ۔ قاری ایک اَن دیکھی تخیلاتی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں صرف رنگ و بو کا سیلاب ہے زندگی خوشبوئیں اور مسرتیں لٹا رہی ہے۔ لیکن اچانک ڈرامائی انداز میں یہ سحر انگیز خواب ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے کہ گھڑی کی سوئیاں بارہ کا گھنٹہ بجاتیں سنڈریلا کو رقص ادھورا چھوڑ کر اپنی بدنصیب اور غریب دنیا میں واپس آنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں شاعرہ خود ایک بدقسمت سنڈریلا ہے۔
نظم آخری حصہ :
گجر بجتے ہی آدھی رات کا
یہ خواب یک دم ٹوٹ جاتا ہے
ستارو سے بنا ملبوس میرا
پھر خس و خاشاک ہو جاتا ہے
میرا رتھ اچانک ٹوٹ جاتا ہے
میری شیشے کی جوتی رقص گہ میں چھوٹ جاتی ہے
مگر اگلی سحر
میری طرف
شاہی محل سے
کوئی قاصد دوسرے پاؤں کی فرقت میں
نہیں آتا
پروین شاکر کی شاعری کا آخری سفر ان کی شاعری کا پانچواں مجموعہ "کف آئینہ” ہے۔ اس کے بعد ان کی شاعری کا سفر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ اس میں احساسات کچھ تھکے تھکے اور بجھے بجھے سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں خوشبو کی لڑکی ایک عورت بن جاتی اور جس کی تڑپتی اور سسکتی آرزوئیں ،ناآسودہ ارمان اور زندگی کا سونا پن واضح طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ جس میں ہونے یا نہ ہونے کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔نظم "ایک خالی دوپہر کا سونا پن” میں اس طرح بیان کرتی ہیں:
کسی آواز نے ماتھا میرا چوما
نہ کوئی دلربا لہجہ
مجھے باہوں میں لے پایا
اس مجموعہ کی اکثر نظموں میں پروین شاکر یا تو کبھی خدا سے گلہ کرتی ہیں یا تو تقدیر کو کوستی ہیں۔ کبھی تو یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دے کر بہلاتی ہیں کہ خدا نے ہی یہ قسمت تیرے لیے بنائی ہے اور اب تو کچھ بھی نہیں کر سکتی ہے، سوائے دعا کے۔پروین شاکر کی شاعری میں اداسی، بےچینی، درد و کرب جیسی محسوسات کا تعلق براہ راست ان کی اپنی ذات سے بھی ہے اور معاشرے اور ملک کی سیاسی و سماجی حالات اور قتل و غارت گری کے نتیجے میں پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال سے بھی ۔جس کا ذکر وہ اپنے پانچوں شعری مجموعوں میں کر چکی ہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ پروین شاکر کی شاعری فکروشعور اور جذبہ و احساس کی نئی جہتوں سے عبارت ہے ۔ جو جدید حسیت اور جدید دور کے ذہنی رویوں سے مالامال ہے۔ ان کی شاعری شگفتگی اور لطافت کا مرقع ہے۔ اور احتجاجی انداز کی نظموں میں طنز اور تنقید کی کاٹ بھی پائی جاتی ہے۔الغرض پروین شاکر سبھی کی نظروں میں حقیقی پروین ہے، جو فنا ہوکر بھی ادب کے آسمان پر چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ،جس سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ بڑے فنکار کبھی فنا نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوکر بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور یہی کمال پروین شاکر کا بھی ہے کہ وہ حساس جذبوں میں پلنے اور چڑھنے والی شاعری کی بدولت آج اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اور یوں ہی زندہ رہیں گی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی قدر و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوگا۔
( مکمل )

